بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
۸ نومبر ۲۰۲۶ / ۲۷ جمادی الاول ۱۴۴۸ ھ

شعبہ تجوید وقراآت

الحمد للہ رب العٰلمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم سیدنا ومولانا محمد واٰلہ و صحبہ اجمعین :

قرآن کریم ،حضورخاتم النبیین ﷺ پر نازل ہونے والی، اللہ تبارک وتعالیٰ کی وہ آخری اور لازوال کتاب ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری حق تعالیٰ جلّ شانہ نے خود  لی ہے ، چنانچہ ارشادِباری تعا لیٰ ہے :  { اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ} [الحجر: ۹] ، یوں قرآن کریم آنحضرت  ﷺ  کا ایک ایسا زندہ و  جاوید معجزہ ہے جسے تا قیامت بقا حاصل ہے،  اورقرآن کریم، اللہ تعالیٰ کے جملہ انعامات میں سے ایک نعمتِ عظمیٰ ہے، کیونکہ یہ نہ صرف رُشد وہدایت کا منبع ہے، بلکہ اس کو اللہ عزّ و جلّ کے کلام ہونے کا عظیم ترین شرف بھی حاصل ہے، اس طرح اس کتاب مبین کا تعلیم و تعلّم افضل و اشرف اعمال میں سے ہے، چنانچہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : خيركم من تعلّم القرآن وعلّمه ،]صحيح البخاري (۶/۱۹۲)[ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃ تامۃ واسعۃ نے اپنی عمریں اِس عظیم الشان عمل کے لئے وقف کیں، اور انہوں نے اِس خدمت کو خصوصی طور پر اپنا نصب العین بنائے رکھا، اور یہ عظیم امانت اگلی نسلوں تک پہنچانے کے ذمہ داری کو احسن طریقہ سے پورا فرمایا ، جزاہم اللہ تعالیٰ خیرا ۔

 

اللہ تبارک وتعالیٰ کا بے پایاں کرم واحسان ہے کہ اس نے جامعہ دارالعلوم کراچی کو تاسیس سے ہی مختلف جہتوں اور مختلف شعبوں میں تعلیمی، تدریسی، تبلیغی، دعوتی اور تصنیفی خدمات کی سعادت کے ساتھ ساتھ فنِّ تجوید وقراآت کی ترویج واشاعت کی بھی توفیقِ خاص عطا فرمائی۔ چنانچہ جامعہ کی تاسیس کے بعد جہاں دیگر شعبے قائم کئے گئے، وہیں ’’ تجوید وقراآت‘‘ کا بھی ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا، اور جامعہ کے اس شعبہ میں شیخ القراء حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحبؒ ، بعد ازاں استاذ القراء حضرت قاری بشیر احمد صدیق صاحب مدظلہم (استاذ القراءات بالمسجد النبوی الشریف)، استاذ الأساتذہ حضرت قاری عبدالرشید صاحبؒ اور شیخ التجوید والقراآت حضرت مولانا قاری عبدالملک صاحبؒ جیسے عظیم اساتذہ نے خدمات سرانجام دیں، اوردیگر شعبوں کی طرح اس  شعبہ نے بھی عظیم رجالِ کار پیدا کئے اور الحمدللہ، آج بھی جامعہ میں ’’شعبہ تجوید وقراآت‘‘فعّال کردار ادا کررہا ہے ۔

’’شعبہ تجوید وقراآت‘‘ کا منفرد نصاب ونظام:

جیسا کہ اوپر گزرا ہے کہ جامعہ کی تاسیس سے ہی یہ شعبہ گرانقدر خدمات سرانجام دے رہا ہےالبتہ’’شعبہ تجوید و قراآت‘‘  کا موجودہ نصاب ونظام جو کہ ۱۴۲۴ھ سے شروع ہوا ہے،  یہ جامع اور منفردنصاب ونظام مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب ؒ،  رئیس الجامعہ  شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اور حضرت مولانا  شمس الحق صاحب ؒنے ملک کے نامور قاری حضرت مولانا قاری احمد میاں تھانوی صاحب زید مجدہم کے علاوہ جامعہ کے اساتذۂ تجوید وقراآت خصوصاً حضرت مولاناقاری عبدالملک  صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت قاری عبدالرشید صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیسے مستند اور ماہرینِ فن کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد مرتب فرمایا۔مندرجہ بالا حضرات کے’’شعبہ تجوید وقراآت‘‘ کےمرتب شدہ نصاب ونظام كی قدرے تفصیل درج ذیل ہے:

شعبہ تجویدکا نظام و نصاب :

تجوید کی تعلیم کا جامعہ دارالعلوم کراچی میں متفرق درجات کے لئےایک مربوط نصاب و نظام ہے ، جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

مرحلہ متوسطہ میں تجوید:

مرحلہ متوسطہ کے سالِ اول سے الحمد للہ تجوید کی تعلیم کا آغاز ہوجاتا ہے، جامعہ دارالعلوم کراچی میں مرحلہ متوسطہ پانچ سالوں پر محیط ہے،  جس میں چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک کی معیاری تعلیم کا نظام ہے، اور مرحلہ متوسطہ کے طے شدہ پانچ سالہ نصاب میں دوسرے علوم و فنون کے ساتھ روزانہ  ایک گھنٹہ تجوید کی تعلیم کیلئے مختص ہے، ان پانچ سالوں میں ایک پارہ کی مشق اور خلاصۃ التجوید کی تعلیم کے ساتھ  ساتھ دو مرتبہ پورا قرآن کریم حدر میں کہلوایا اور سُنا جاتا ہے، سالِ اول سے سالِ سوم تک ایک مرتبہ اور سالِ چہارم اور پنجم میں دوسری مرتبہ پورا قرآن کریم حدر میں کہلوایا اور سُنا جاتا ہے ، تاکہ طلبہ کی تجوید میں پختگی آجائے۔

مرحلہ ثانویہ عامّہ میں تجوید:

  • مرحلہ ثانویہ عامّہ کے دو سالوں میں وفاق المدارس کے درسِ نظامی کے طے شدہ نصاب کے ساتھ تجوید کی تعلیم کی ترتیب اس طرح ہے کہ مرحلہ ثانویہ عامہ کے دو سالوں میں جہاں دو پاروں (۲۹و ۳۰) کی مشق کا نظم ہے، وہاں فنِ تجوید کی تین بنیادی کتب: جمال القرآن، فوائد مکیہ اور مقدمۃ الجزریہ بھی باقاعدہ درساً پڑھائی جاتی ہیں۔
  • شعبہ تجوید للعلماء: دورۂ حدیث شریف کے فضلا ء کے لئے و فاق المدارس العربیہ پاکستان نے تجويدكی تعلیم کیلئےایک سالہ نصاب تجویز کیا ہے،الحمدللہ تعالیٰ جامعہ دارالعلوم کراچی میں ، و فاق المدارس کے طے شدہ نصاب برائے تجوید للعلماء کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مختلف مراحل کے طلبہ کیلئے تجوید کی تعلیم کا نظم :

مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق تجوید کی باقاعدہ تعلیم کے علاوہ متفرق درجات کے وہ جدید طلبہ، جن کی تجوید کمزور ہو،  اُن کے لئے بھی تصحیحِ حروف اور بنیادی تجوید کی تعلیم کا ایک مستقل نظم ہے ، جس کی ترتیب یہ  ہے کہ تعلیمی سال کی پہلی سہ ماہی میں بعد نمازِ فجر ’’جمال القرآن‘‘ از حکیم الأمۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کا درس ہوتا ہے جبکہ دوسری سہ ماہی میں تصحیحِ حروف کا اہتمام ہوتا ہے اور پارۂ عمّ کی مشق کروائی جاتی ہے، اس درس میں ابتدائی  درجات سے لے کر دورۂ حدیث شریف بلکہ تخصصات تک کے طلبہ شریک ہوتے ہیں ۔

شعبہ قراء ات کا نظام و نصاب:

’’شعبہ قراآت‘‘قسم القراآت اورتخصص فی القراآت کے عنوان  سےدو حصوں میں تقسیم ہے جس كی تفصیل درج ذیل ہے:

قسم القراء ات:

جامعہ دارالعلوم کراچی میں درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ قراآتِ عشرہ (بطریقِ شاطبیہ ودُرّہ) کی تعلیم کا ایک مکمل نظم ہے، جس میں اُن منتخب طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے  جنہوں نے درجہ ثانویہ عامہ امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا ہو ، جید حافظ ہو ں اور تجوید بروایتِ حفص ؒ پڑھ چکے ہوں، انہیں درجہ ثالثہ (الثانویۃ الخاصّۃ : السنۃ الأولیٰ)  سے لیکر درجہ سادسہ (العالیۃ :السنۃ الثانیۃ)  تک کے چار سالوں میں وفاق المدارس کے طے شدہ نصاب کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ قرا آت ِ سبعہ میں ’’حرز الأمانی و وجہ التھانی‘‘ (شاطبیہ)  ، رسمِ عثمانی میں ’’عقیلۃ اتراب القصائد‘‘(رائیہ)،  قراآتِ ثلاثہ میں ’’الدرۃ المضیئۃ ‘‘،علم الفواصل میں ’’الفرائد الحسان ‘‘  اور متعدد پاروں کاجمع الجمع میں اجراءِ قراآت  کی تعلیم کا نظم ہے،اس طرح الحمد للہ، ’’مرحلہ ثانویہ خاصہ‘‘ اور  ’’ مرحلہ عالیہ ‘‘کے چار سالوں میں درسِ نظامی کے ساتھ قراآتِ عشرہ (بطریقِ شاطبیہ ودُرّہ) کی تعلیم مکمل ہو جاتی  ہے ۔