بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
۲۱ ستمبر ۲۰۲۶ / ۷ ربیع الثانی ۱۴۴۸ ھ

زکروفکر

محمد تقی عثمانی

 

مسلمانوں کے عائلی قوانین کا تحفظ

مقننہ اور عدلیہ سے کچھ گزارشات

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا اور درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا

نکاح، طلاق، وصیت اور وراثت سے متعلق احکام ہر مذہب و ملت میں تقریباً اسی تقدس کے حامل ہوتے ہیں جو عبادت کو حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن و سنت میں جتنی جزوی تفصیلات سے ان احکام کو بیان فرمایا گیا ہے، اس تفصیل سے کسی اور قانون کو بیان نہیں کیا گیا، کیونکہ ان قوانین کا تعلق اس خاندانی نظام سے ہے جو کسی تہذیب و تمدن کا بنیادی پتھر ہوتا ہے اور اسی کی بنیاد پر تمدن کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

چنانچہ انگریز نے جب برصغیر پر قبضہ جمایا، تو تمام قوانین اپنے طور پر نافذ کئے، لیکن مذکورہ قوانین کو مسلم پرسنل لاء کے طور پر برقرار رکھا، اور عدالتوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ ان معاملات میں فقہ حنفی یا فقہ جعفری کے مطابق فیصلے کریں۔

چنانچہ غیر منقسم ہندوستان میں عدالتیں اسی کی پابند رہیں۔ اور شریعت کی تعبیر و تشریح میں یا تو مفتی حضرات کے فتووں پر اعتماد کرتی تھیں، یا ان موضوعات پر لکھی گئی کتابوں سے استفادہ کرتی تھیں۔ اگرچہ بعض عدالتوں کے فیصلوں میں غلطیاں بھی ہوئیں، لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کا پرسنل لاء بڑی حد تک محفوظ رہا۔

 

مزید معلومات کیلئے البلاغ کے اردو رسالے دیکھیں۔