بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
۲۸ اگست ۲۰۲۶ / ۱۴ ربیع الاول ۱۴۴۸ ھ

اس بیان میں حضرت والا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی حقیقت اور اس کے عملی تقاضوں پر روشنی ڈالی ہے کہ حقیقی ایمان کے لیے نبی کریم کی محبت کا تمام دنیاوی رشتوں اور اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہونا لازمی ہے۔ محض زبانی دعووں، جشن یا رسومات کے بجائے اطاعتِ رسول اور سنت کی پیروی کو اصل محبت قرار دیا گیا ہے۔ حضرت نے قرآن کے چار بنیادی مقاصد یعنی تلاوت، تعلیمِ کتاب، حکمت اور تزکیہ نفس کو اپنانے پر زور دیا ہے۔ آخر میں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ تجوید کے ساتھ قرآن سیکھنے اور اپنی عملی زندگی کو اسلامی احکامات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ یہ بیان امت کو ظاہری نمائش کے بجائے کردار کی اصلاح اور دیانت داری کی طرف راغب کرتی ہے۔

 

حمد و ثنا اور حدیثِ مبارکہ (عظمتِ محبتِ رسولﷺ)

مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ رسولﷺ کی تڑپ

اختر شیرانی کا ایمان افروز واقعہ

محبتوں کی مختلف اقسام اور ان کے جداگانہ تقاضے

استاد کی عظمت اور اختلافِ رائے کے آداب

محبتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا: اتباع اور فرمانبرداری

بعثتِ نبویﷺ کے چار بنیادی مقاصد اور فرائض

تلاوتِ قرآن کی اہمیت اور علمِ تجوید کی انفرادیت

عصری تعلیم اور دینی غفلت (قرآنی تربیت کا المیہ)

محبت کا کھوکھلا دعویٰ بمقابلہ عملی زندگی

قرآنِ مجید سے دوری اور مغرب کی نقالی

عملی زندگی میں دیانت داری اور کردار سازی

تجوید کے ساتھ قرآن سیکھنے کا آسان طریقہ

قرآنی ہدایت: اللہ کا عظیم الشان پیغام

ربیع الاول کے مہینے کا حقیقی عہد

رقت آمیز دعا اور توبہ و استغفار

ملکی حالات کی اصلاح اور صالح قیادت کی دعا

شفا، عافیت اور آخری دعائیہ کلمات