جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے کورونا وائرس کے متعلق جاری ہدایات

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کوروناوائرس اورحفاظتی تدابیر

کورونا وائرس کے تناظر میں بڑے اجتماعات یا مساجد میں آنا

ان دنوں دنیا ایک سنگین انفیکشن کی زد میں ہے جو کہ کورونا وائرس کے باعث تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں نمونیا ہوسکتا ہے جو مہلک بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بات یادرکھناچاہیئے کہ بیماری اورشفاء تمام تر اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہے ،اورایک کی بیماری دوسرے کو لگناہمیشہ ضروری نہیں ہوتا،اللہ تعالی کی مشیت نہ ہوتوبیماری نہیں لگتی ،لہذا اس کی بنیاد پرخوف وہراس پھیلانا،یاتوہمات میں مبتلاہونادرست نہیں،اورایسے میں اللہ تعالی سے رجوع ہی مومن کاسب سے بڑاہتھیارہے۔البتہ شریعت اسلامیہ نے اعتدال کے ساتھ احتیاطی تدابیرپرعمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے جواحادیث میں مذکورہے،لہذا اس سلسلے میں مذکورہ ذیل ہدایات دی جارہی ہیں۔
عام طور پر یہ وائرس کھانسی اور چھینک سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتا ہے۔ ایسا کوئی بھی شخص اس وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے جس نے کورونا وائرس کی زد میں آنے والے ممالک کا سفر کیا ہو اور پاکستان میں دو ہفتے سے کم عرصہ سے مقیم ہو۔
بڑے اجتماعات میں ، جہاں زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوں، اس طرح کے وائرس کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں جب یہ وائرس پوری دنیا میں مسلسل پھیل رہا ہے، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ کسی بھی طرح کے اجتماعات انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
مساجد کسی بھی مسلمان معاشرے میں دل کی مانند ہیں۔ بطور امت ہمارا فرض ہے کہ مساجد اور ان میں عبادت کرنے والوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ چند دنوں میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافے کے پیش نظر متعدد غیر معمولی اقدامات کیے ہیں تاکہ شہریوں کو اس وائرس سے بچایا جا سکے۔ ان میں مریضوں کی آزادانہ نقل و حمل، تعلیمی اداروں، شادی ہالوں اور بڑے اجتماعات پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔اور مساجد کو محفوظ رکھنابھی ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
مساجد اور نمازیوں کو اس وبائی وائرس سے بچانے کے لیے ذیل میں رہنمااصول دئیے جارہے ہیں، یہ رہنما اصول حالیہ طبی معلومات اور متعلقہ شعبے کے ماہرین سے مشورے کے بعد تیار کیے گئے ہیں۔
اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے سماجی رابطوں میں کمی کو کلیدی تصور خیال کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر تمام افراد کو درج ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے :-

مخصوص افراد کے لئے بڑے اجتماعات میں شرکت سے اجتناب اوراحتیاط

٭ جس شخص میں کوروناوائرس کی تصدیق ہوچکی ہو،اسے گھریاہسپتال میں رہناچاہیئے،ایسے شخص کیلئے اجتماعات اورمساجد میں جاناجائزنہیں۔ایسے افرادکوگھرمیں نماز اداکرلیناچاہیئے۔
٭ جس شخص میں بیماری کی علامات مثلا بخار،کھانسی وغیرہ موجودہولیکن کوروناکی تصدیق نہ ہوئی ہوتوکوروناکے احتمال کی وجہ سے احتیاطاًایسے افرادکواجتماعات میں جانے سے گریزکرناچاہیئے،اورنمازپڑھنے کے لئے مسجدجانے کے بجائے گھرمیں نمازباجماعت کااہتمام کرناچاہیئے۔
٭ وہ بزرگ حضرات جن کی صحت خراب رہتی ہو،یاپھیپھڑوں اوردل کے امراض میں مبتلاہوں ،توان کی قوتِ مدافعت کمزورہونے کی وجہ سے وہ بآسانی کروناوائرس کاشکارہوسکتے ہیں ،ایسے لوگ اگر(کوروناکاخطرہ ٹلنے تک) مرض کے لاحق ہونے کے خوف سے مسجدنہ آئیں تو وہ بھی شرعاً معذورہیں۔وہ گھرمیں نماز باجماعت اداکرسکتے ہیں۔
٭ جس نے کسی ایسے ملک یاجگہ کاسفرکیاہوجہاں بڑی تعدادمیں کوروناکے مریض موجود ہوں یاجس کاکوروناکے مریض کے ساتھ ملناجلنا ہویاوہ اس کی دیکھ بھال پرمامورہووہبھی مذکورہ بالا احتیاطی اورحفاظتی تدابیرپر عمل کرسکتے ہیں۔
ان احتیاطی تدابیر پراس وقت تک عمل جاری رکھناچاہیئے جب تک حکومت کی جانب سے کوروناکاخطرہ ٹل جانے کاحتمی ا علان نہ ہوجائے۔اوران احتیاطی تدابیرمیںجن مسلمانوں کودوسروں کی صحت کے پیش نظر مسجد میں نہ جانے کامشورہ دیا جا رہا ہے، انہیں اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ چونکہ ان کی نیت دوسروں کی حفاظت کرنا ہے اس لیے اللہ تعالی کی رحمت سے امیدہے کہ ان شاء اللہ تعالی ان کی اس نیت کے بدلے انہیں نماز کے اُسی قدر ثواب سے نوازیں گے جو مسجد میں باجماعت نمازاداکرنے کا ہے۔البتہ یہ حضرات اپنے گھرمیں جماعت کرواسکتے ہیں ،چاہے مقتدی ایک فردہی ہو۔

عام لوگوں کے لئے احتیاطی تدابیر

٭ گھر سے وضو کر کے مسجد آئیں۔
٭ سنتیں گھر سے ادا کر کے تشریف لائیں اور فرض نماز کی ادائیگی کے بعد بقیہ سنتیں گھر واپس جا کر ادا کریں۔
٭ مسجد میں لوگوں سے ملاقات کم سے کم کریں۔
٭ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے گریز کریں ۔
٭ کھانسی یا چھینکتے وقت ناک اور منہ کورومال یا بازویا ٹشو سے ڈھانپ لیں اور پھر ٹشو کو محفوظ طریقے سے تلف کر دیں۔
٭ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھوں کو صابن کے ساتھ تقریباً 20 سیکنڈز تک دھوئیں، خصوصاً دوسرے سے ہاتھ ملانے کے بعد،اوراگرمستقل باوضورہیں توجسمانی اورروحانی دونوں طرح سے حفاظت رہےگی۔
٭ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی الرجی ہے تو اپنی ذاتی جائے نماز مسجد میں لائیں ۔
٭ جس طرح اس بیماری سے محتاط رہنا ضروری ہے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں میں خوف و ہراس پھیلانے سے، یا سختی سے پیش آنے سے گریز کریں۔نیزغیرمصدقہ اورغیرمستندافواہیں نہ پھیلائیں۔

مساجدمیں احتیاطی تدابیرکااہتمام

تمام مساجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ:
٭ مسجد میں صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کریں ۔ فرش، دیواریں دھونے کے لیے خوشبودارفینائل یا اس طرح کے لیکوڈ کا استعمال مناسب ہو گا۔
٭ نماز کی جگہوں پر قالین کے استعمال سے گریز کریں، کیونکہ یہ جراثیم کی پناہ گاہیں ہیں اور انہیں صاف کرنا بھی نہایت مشکل ہے۔ اگر قالینوں کا ہٹانا ممکن نہ ہو توان کی صفائی ستھرائی کاخصوصی اہتمام کریں،یاان پرصاف ستھری دریاں بچھادیں۔
٭ ایسے کسی بھی شخص کو جس میں بیماری کی علامات پائی جائیں، مسجد سے باہر جانے کی ادب اور نرمی سے درخواست کریں یا اگر اسے مدد درکار ہو تو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔
ائمہ حضرات نمازیوںکو باور کروائیں کہ موجود صورتحال میں یہ تمام حفاظتی تدابیر اختیار کرناضروری ہیں ، ایسا نہ کرنے سے دوسرے لوگوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ہمارے دین میں کسی کی زندگی کیلئے خطرے کاسبب بنناممنوع ہے۔
یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ اور توبہ واستغفارپرخصوصی توجہ دینابہت ضروری ہے،کیونکہ عذاب الٰہی کابنیادی سبب انسانوں کے گناہ ہوتے ہیں۔لہذا فرائض وواجبات کی پابندی کریں،تلاوت اورکثرت سے ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ درج ذیل دعاؤں کابھی اہتمام کرناچاہیئے:

٭ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ(ایک تسبیح روزانہ فی کس)
٭ بِسْمِ اللَّہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْیٌٔ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاء ِ وَھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
(صبح شام تین تین بار،اورگھرسے نکلتے ہوئے ،اورکھانے پینے سے پہلے)
٭أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، فَاللَّہُ خَیْرٌ حَافِظًا وَھُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
٭ ہرنماز کے بعدآیۃ الکرسی

ہم سب کو چاہئیے کہ اپنے گناہوں سے توبہ واستغفاراوردعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں صرف اللہ تعالی ہی ہیں جو ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیںاورصحت عطافرماتے ہیں۔
ہمیں کورونا وائرس سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات و طریقہ ہائے علاج کے ابلاغ اور غیر ضروری بحث سے گریز کرنا چاہیئے۔ یہ امور بنیادی طور پر متعلقہ اداروں بشمول حکومت و ڈاکٹرز کی ذمہ داریاں ہیں ۔تاہم خوف و ہراس پھیلانے سے بہرحال بچنا چاہیئے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کواس وبائی مرض سے اوردیگرہرقسم کے امراض سے اپنی پناہ میں رکھے۔آمین ثم آمین

_______________________________________________________

ضمیمہ
ایک بشارت

حال ہی میں بندہ کے پاس ایک بزرگ کافون آیاجنھیں اکثر خواب میں حضورؐ کی زیارت ہوتی رہتی ہے انہوں نے بتایاخواب میں انھیں حضورؐ کی زیارت ہوئی ،آپ نے فرمایاموجودہ وباکے عذاب سے حفاظت کے لئے
تین مرتبہ ’’سورہ ٔفاتحہ‘‘ پڑھیں،
تین مرتبہ ’’سورہ ٔاخلاص‘‘ پڑھیں
اور313مرتبہ حَسْبُنَا اللَّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ پڑھیں،
اورپانی پردم کرکے سارادن وہی پانی پییں تواس بیماری سے (ان شاء اللہ تعالی) حفاظت رہیگی،اورخواب ہی میں آنحضرت ؐ نے بندہ کے ذریعہ اس بشارت کوعام کرنے کافرمایا۔
خواب اگرچہ قرآن وحدیث کی طرح حجت اورمعتبرنہیں ہوتا،لیکن جوخواب قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو،اس پرعمل کیاجاسکتاہے،اسلئے اس کوشائع کیاجارہاہے اوراس کے مطابق عمل کرنادرست ہے۔

محمدتقی عثمانی