التخصص فی الدعوۃ والارشاد

اس شعبہ کے قیام کا مقصد ایسے رجال کار کی تیاری ہے جو دعوت دین کے تقاضوں کو بخوبی سمجھ کر علم و بصیرت اور احسان اور عمل صالح کے ساتھ دنیا بھر میں جہاں ضرورت ہو دین کی نشر و اشاعت کا فریضہ زبانی اور تحریری انجام دے سکیں اور ہر موقع کی مناسبت سے گفتگو کی اور مخاطبین کی قوت استدلال سے قائل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں۔
دعوت دین اور تبلیغ اسلام کے لئے رجال کار کی تیاری کی غرض سے جو نصاب تجویز کیا گیا ہے، علاوہ اس نصاب کے اردو، عربی اور انگریزی تینوں زبانوں میں تقریر و تحریر کا خصوصی اہتمام ملحوظ رکھا گیا ہے اور موضوع اور ماحول کے مناسب متنوع ماحول میں گفتگو اور دین کی بات مخاطبین تک پہنچانے کا سلیقہ اور انداز کی تربیت کا اہتمام ہے۔ نیز مختلف اور متنوع موضوعات پر مقالہ نویسی کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی توسیعی خطبات کا انتظام بھی کیا جاتا ہے اور اپنے اپنے دائرہ کار میں ماہر اہل علم کو طلباء سے خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ نیز ابلاغ عامہ، سیاست و تمدن، معیشت وغیرہ جیسے اہم موضوعات کے کورس بھی شامل نصاب ہیں۔ کمپیوٹر کی تربیت کا بھی انتظام ہے۔
تخصص فی الدعوۃ والارشاد کا مختصر نصاب درج ذیل ہے:
سال اول:
۱۔ عربی ۲۔ انگریزی ۳۔ اصول دعوت
۴۔ الفقہ الاسلامی الجدید (معاییر) ۵۔ مقارنۃ الادیان ۶۔کمپیوٹر
سال دوم:
۱۔ عربی ۲۔ انگریزی ۳۔ سیرت طیبہ اور تاریخ اسلام / تصوف و طریقت
۴۔ الفقہ الاسلامی العام ۵۔ الفکر الغربی و سائنس ۶۔ الفرق الباطلہ

علمی مقالات کا مختصر تعارف

مولانا اعجاز احمد صمدانی
مولانا طاہر مسعود عطاء

بِسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم
جامعہ دارالعلوم کراچی کے شعبہ التخصص فی الدعوۃ والارشاد
کے علمی مقالات کا مختصر تعارف

اس میں شک نہیں کہ ختمِ نبوت کی وجہ سے دعوتِ دین کی ذمہ داری بنیادی طور پر علماء ِ کرام کے سروں پر آتی ہے، اور دورِ حاضر میں دعوتِ دین کی جامع خدمت کے لئے ایک عالم دین کے لیے نہ صرف پختہ استعداد کاحامل ہونا اہم ہے بلکہ دین ِ متین پر ہونے والے مختلف فکری و نظریاتی حملوں کا ادراک اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت سے بہرہ ورہونا بھی ضروری ہے ۔چنانچہ داعی کے لئے ضروری ہے کہ اسے ان باطل فرقوں کے افکار و نظریات کا علم ہو جو متفرق شکلوں میں دنیا کے مختلف حصوں کے اندر موجود ہیں، اسی طرح غیر مسلموں کے قابلِ رد نظریات سے واقفیت کے ساتھ ساتھ داعی کے لئے یہ بھی ضرور ی ہے کہ وہ عصر ِحاضر کے ان جدید افکار و خیالات سے بخوبی آشنا ہو،جو موجودہ نسلِ انسانی کو گمراہی اور ضلالت کی راہوں پر ڈالنے کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ان سب کی تردید کا مؤثر طریقہ بھی اسے معلوم ہو۔
ان مقاصد کے پیشِ نظرجامعہ دارالعلوم کراچی میں رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمدرفیع عثمانی صاحب مدظلہم اورنائب رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کے زیرِ ِسرپرستی شعبہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ اس شعبے کے قیام کا مقصد ایسے رجالِ کا ر کی تیاری ہے جو :
۱…دعوتِ دین کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہوں۔
۲…باطل فرقوں کے افکار و نظریات کو سمجھ کر ان کی مؤثر تردید کا ملکہ رکھتے ہوں۔
۳…جدیدیت کی نظریاتی جنگ کے داؤ پیچ سمجھ کر ان کا مقابلہ کر سکتے ہوں۔
۴…حکمت اور بصیرت کے ساتھ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
۵… پوری انسانیت کی دنیوی و اخروی صلاح و فلاح کا درد لے کر اس کے لئے اپنی صلاحیتوں کو ہمہ وقت خرچ کرنے کے لئے آمادہ ہوں۔
اس شعبے کا بنیادی مقصد دین کے دیگر بہت سے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ دعوت و ارشادکے ان شعبوں میں خصوصی کام کرناہے۔
(۱)… معاشرے میں جو منکرات ہیں، ان کی نشاندہی کرنا اور تحریر وتقریر کے ذریعے انہیں مٹانے کی کوشش کرنا۔
(۲)… غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی حقانیت واضح کرکے انہیں اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دینا۔
(۳)… اس وقت خود مسلمانوں میں جو طرح طرح کی فکری گمراہیاں پھیلی ہوئی ہیں، ان کی مؤثر علمی تردید اور احقاقِ حق کرنا۔
اس شعبے کا آغاز شوال المکرم ۱۴۲۲ھ ( ۲۰۰۱ء) میں ہوا، اس تخصص کا دورانیہ دو سال رکھاگیا۔ اس طرح اس کی پہلی جماعت شعبان المعظم ۱۴۲۳ھ کو فارغ ہوئی جو سترہ طلبہ پر مشتمل تھی۔ لیکن بعض عوارض کی بنا پر آئندہ چند سالوں تک اس میں مزید داخلے نہیں ہوسکے۔پھر ۱۴۲۸ھ میں اس کا دوبارہ آغاز کیاگیا،اور اس کی نگرانی کے لئے حضرت مولانااشفاق الرحمن کاندہلوی کے صاحبزادے حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی ؒ کا انتخاب ہوا۔
حضرت موصوفؒ کاندھلہ کے جس علمی خانوادہ کے لائق وفائق چشم وچراغ تھے،اس کی خدمات محتاجِ بیان نہیں۔آپ کئی سال تک ملک میں مختلف الانواع اور ہمہ جہت علمی خدمات کے بعدبرونائی دارالسلا م تشریف لے گئے۔۲۰۰۶ء میں وہاں سے وطن واپسی کے بعد جامعہ دارالعلوم کراچی میں بطور مُشرفِ قسم التخصص فی الدعوۃوالارشاد آپ کا تقررہوا۔آپ نے تا آخرِدمِ حیات ۴ صفرالخیر ۱۴۳۲ھ (تقریباً پانچ سال ) تک اپنی ذمہ داری بحسن وخوبی نبھائی۔فجزاہ اللہ خیرالجزا۔
آپ کے بعدحضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب مدظلہم استاذ الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی اس شعبے کے نگران مقرر ہوئے اور تاحال یہ شعبہ حضرت مدظلہم کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔
اس شعبہ میں ہرطالب علم کے لیے سالِ دوم میں کسی ایک علمی موضوع پرمقالہ لکھناضروری ہوتاہے۔اس کامقصد طلبہ میں تحقیقی ذوق پیداکرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کی تربیت دیناہے کہ وہ فراغت کے بعد تصنیف وتالیف کے ذریعے خدمت ِدین کرسکیں۔
اس کاطریقۂ کاریہ طے کیاگیاہے کہ سال اول میں ہرطالب علم جس موضوع پرکام کرناچاہتاہے وہ اس کا خُطّہ(Synopsis) بناتاہے،اساتذہ اس کاجائزہ لیتے ہیں ،پھروہ خُطے حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب نائب رئیس الجامعہ دامت برکاتہم کی خدمت میں منظوری کے لیے پیش کیے جاتے ہیں ۔حضرت مدظلہم اس کوملاحظہ فرماکراس کومنظورفرماتے ہیں۔اس طرح حضرت دامت برکاتہم کی طرف سے اجازت کے بعدسال دوم میں طلبہ اس مقالہ کو مکمل کرتے ہیں۔مقالہ کے لیے باقاعدہ ایک گھنٹہ متعین ہے،جس میں ایک استادبطورنگران بھی مقررہیں ۔نگران استادوقتاًفوقتاً طلبہ کے کیے ہوئے کام کاجائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کام کے دوران پیش آنے والی مشکلات اورمسائل کے سلسلہ میں طلبہ کی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔مقالہ کے لیے طلبہ جامعہ دارالعلوم کراچی کی وقیع اورعظیم الشان لائبریری سے استفادہ کرتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ شعبہ کی درس گاہ میں طلبہ کو ایسے کمپیوٹرفراہم کیے گئے ہیں جن میں موجود ڈیجیٹل لائبریری سے بھی طلبہ استفادہ کرسکتے ہیں ۔
ہرطالب علم کے لیے رجب کے آخرتک اپنامقالہ جمع کروانالازمی ہوتاہے۔لکھے جانے والے مقالے شعبہ کے ریکارڈمیں جمع ہوتے ہیں۔نگران استادمقالہ چیک کرکے اس کے علمی اورتحقیقی معیارکے لحاظ سے باقاعدہ نمبردیتے ہیں ۔
چونکہ مقالہ کے سلسلہ میں یہ باقاعدہ نظم شعبہ کے دوبارہ آغاز کے بعدبنا۔اس لیے ۱۴۲۲ھ میں فارغ ہونے والی پہلی جماعت کے علمی مقالہ جات کی کوئی تفصیل ریکارڈ سے دستیاب نہیں ہوسکی، دوبارہ آغازکے بعدلکھے جانے والے مقالہ جات کامکمل ریکارڈ بحمداللہ شعبہ کے دفترمیں موجودہے۔پہلی مرتبہ یہ مقالے ۱۴۲۹ھ میں مکمل ہوکرشعبہ میں جمع ہوئے ۔اس وقت سے لے کر اب تک لکھے جانے والے مقالات کا مختصر تعارف بالترتیب پیش کیا جاتا ہے:

تعارف مقالہ جات ۱۴۲۹ھ

۱۔۔۔اناجیل اربعہ میں تحریف اور تناقض(اردو)
مقالہ نگار: خالد محمود یزمانی
عیسائیوں کے ہاں انجیل متی،انجیل لوقا، انجیل مرقس اور انجیلِ یوحنانام کی چاراناجیل مقدس اور الہامی سمجھی جاتی ہیں ۔ مقالہ نگار نے اس مقالہ میں ان کا تعارف ،تاریخ اور ان میں ہونے والی تحریف اور پائے جانے والے تناقض پر مفصّل بحث کی ہے اور ساتھ ساتھ اس کی مثالیں بھی ذکر کی ہیں ۔ اگر بنظر انصاف اس کا مطالعہ کیاجائے تویہ بات بآسانی سمجھ میں آجائے گی کہ عیسائیوں کی موجودہ انجیلوں میں کتنی واضح تحریف ہوئی ہے اورموجودہ حالت میں پائی جانے والی انجیلیں ہرگز اس حالت میں نہیں کہ انہیں کسی مذہب کی مستندتعلیمات قراردیاجاسکے۔
۲۔۔۔الشیخ المفتی محمد شفیعؒ حیاتہ وخدماتہ(عربی)
مقالہ نگار:غفور الحق چارسدوی
اللہ تعالیٰ ہر دور میں کچھ ایسی نادرِ روز گار شخصیات پیدا فر ماتے رہتے ہیں ،جو اپنا تن من دھن دینِ متین کے لئے وقف کرکے ایسی خدمات سر انجام دیتے ہیں ،جو رہتی دنیا تک ان کے لئے صدقۂ جاریہ بنتی ہیں۔انہی شخصیات میں سے جامعہ دارالعلوم کراچی کے بانی حضرت مولانا مفتی محمدشفیع ؒ بھی ہیں۔ آپ کی خدمات ِدینیہ اتنی زیادہ اور ہمہ جہت ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔صرف تصنیف کے میدان میں آپ کے قلم سے تقریباً دوسو کتب اوررسالے تیارہوئے۔مقالہ نگار نے حضرت مفتی صاحب ؒ کے حالاتِ زندگی ،خاندانی پسِ منظر ،آپ کی دینی ،ملی و علمی خدمات کے ساتھ ساتھ تحریکِ پاکستان میں آپ کی عظیم الشان خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
۳۔الامامۃالعظمیٰ عندأھل السنّۃ والجماعۃ(عربی)
مقالہ نگار: محمد خالد چمنی
امت ِمسلمہ کا مثالی نظامِ سیاست’’ خلافت ‘‘ہے،جس میں پوری امت کی سربراہی امام کرتا ہے،جو امام المسلمین یا خلیفۃ المسلمین کہلاتا ہے۔یہ منصب امامتِ عظمیٰ کہلاتا ہے۔مقالہ نگار نے امامت کی تعریف ،مقاصد، شرائطِ عزل ونصب اور خروج علی الامام کے ساتھ ساتھ تعدّدِ ائمہ پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔
۴۔۔۔ابو الحسن علی الندوی و طریق دعوتہ(عربی)
مقالہ نگار:نذیر احمد پشینی
ماضی قریب میں بر صغیر کے معروف عالمِ دین اور داعی شیخ ابوالحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ نے نہ صرف پاک و ہند بلکہ پورے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کی علمی و فکری رہنمائی کے لئے عظیم الشان خدمات انجام دیں نیز دعوتِ دین کے حوالہ سے بھی وقیع علمی سرمایہ چھوڑا۔مقالہ نگار نے حضرت علی میاںؒ کے حالات،ان کی تصانیف کا تعارف اور دعوتی فکر کو نمایا ں انداز میں بیان کیا ہے۔
۵۔۔۔عیسائیت اور پاکستان میں اس کا نفوذ(اردو)
مقالہ نگار:عبد القیوم
اسلام اور مسلمانوں کو روزِ اول سے جن معاصر مذاہب سے واسطہ پڑا، ان میں ایک بڑا مذہب عیسائیت ہے۔عیسائیت اپنی اصل کے اعتبار سے نہ تو ایک مستقل مذہب تھا اور نہ ہی مشنری اور دعوتی دین، لیکن پولس کے بعد سے اس نے ایک مستقل اور مشنری مذہب کی شکل اختیار کرلی اور تقریباً ہر دور میں حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے اس کی دعوت بہت زور و شور سے جاری رہی، اب بھی عیسائی مشنریز کی مختلف ممالک میں مختلف شکلوں سے مشنری سرگرمیاں جاری ہیں۔مقالہ نگار نے عیسائیت کا تعارف،عالمِ کفر اور عالمِ اسلام بالخصوص پاکستان میں اس کی اشاعت،اثر و نفوذ ، عیسائیوں کے پاکستان میں ذرائعِ تبلیغ،عیسائی مشنریوں کا جائزہ اور این ،جی ،اوز کے تعارف کے حوالے سے مفصل بحث کی ہے۔
۶۔۔۔صحابہ کرامؓ بحیثیت مبلّغین(اردو)
مقالہ نگار:حبیب الرحمن
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قیامت تک آنے والی انسانیت کے لئے نمونۂ عمل اور مشعلِ راہ ہیں۔حضرات صحابہ کرامؓ کے مختلف اوصاف میں سے ایک نمایاں وصف” دعوتِ دین” ہے۔مقالہ نگار نے صحابہ کرامؓ کی دعوتی زندگی کے مختلف پہلو ؤں پر گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر میں دعوت کی راہ میں حائل رکاوٹوں ،اسباب اور سدِباب پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
۷۔۔۔غلوّ فی الدّین کا ایک تحقیقی جائزہ(اردو)
مقالہ نگار:عبد الحکیم
’’غُلوّ ‘‘کسی بھی چیز میں ہو مذموم ہے۔تاریخ انسانی میں بہت سے لوگوں نے دین کے نا م پر پر غلو کیا ۔مقالہ نگار نے یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کے ان فرقوں کا تذکرہ کیا ہے،جنہوں نے دین کے نام پر غلوّ کیا۔اس کے ساتھ ساتھ غلوّ کے اسباب اور اس سے بچنے کی صورتوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے آخر میں علمائے کرام کی ذمہ داری کے حوالہ سے بھی گفتگو کی ہے۔
۸۔۔۔منا ہج الدعوۃ واسالیبھا فی ضوء القرآن الکریم (اردو)
مقالہ نگار:محمد شفیق کشمیری
دینِ اسلا م ایک دعوتی دین ہے اور قیامت تک آنے والی انسانیت تک دین پہنچانا امت کی ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے قرآن کریم نے رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔مقالہ نگار نے دعوت کا مفہوم ، اس کی فضیلت ،ارکان،دعوت کے مصادر ومآخذ اور اسالیب ِدعوت کے حوالہ سے مفصل گفتگو کی ہے۔
۹۔۔۔رفع المسیح و نزولہ(اردو)
مقالہ نگار:شاکر اللہ کراچوی
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدرپیغمبراور قدرتِ الٰہیہ کی عظیم نشانی ہیں۔آپ کے بارے میں مسلمانوں اور یہود ونصاریٰ کے الگ الگ عقائد و نظریات ہیں۔مسلمان اور عیسائی اس اعتبارسے تومشترک ہیں کہ دونوں آپؑ کی نبوت،رفع آسمانی اور نزول کے قائل ہیں ۔لیکن عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی دیے جانے کے تین بعد زندہ ہوئے اورانہیں آسمانوں پرلے جایاگیاجب کہ مسلمانوں کاعقیدہ یہ ہے کہ آپ کوسولی نہیں دی گئی بلکہ اس سے پہلے ہی آپ کوآسمان پراٹھالیاگیا۔جب کہ یہود ی آپؑ کی نبوت،رفع و نزول کے منکر لیکن صلیب کے قائل ہیں۔ایک چوتھا مکتبِ فکر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کا ہے ۔جو ایک طرف وفاتِ عیسیٰؑ اور عدم رفع کے قائل ہیں اور دوسری طرف نزول ِ عیسیٰ کی احادیث کو مرزا صاحب کے لئے ثابت کرتے ہیں۔مقالہ نگار نے رفع و نزول مسیح کے معرکۃ الآراء مسئلہ کو قرآن مجید ،احادیثِ مبارکہ ، مستند تفاسیراور اناجیل کی روشنی میں واضح کرنے کے ساتھ ساتھ آخر میں شبہات کے جوابات بھی ذکر کیے ہیں۔
۱۰۔ ۔۔ فرقہ اثنا عشریہ کے عقائد اور اہل السنۃ والجماعۃ (اردو) مقالہ نگار:محمد اسامہ جاوید
شیعوں کا شمار،اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے فرقوں میں ہو تا ہے۔ شیعوں کے پھر بہت سے فرقے ہیں ۔ان میں سے ایک فرقہ اثنا عشریہ ہے ، جو بارہ اماموں کا قائل ہے ۔ مقالہ نگار نے اس فرقہ کا تعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس کے عقائد جیسے عقیدہ بدا،تحریف قرآن اور عقیدۂ امامت پر مفصل گفتگو کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اس فرقہ کے عقائد و نظریات مسلمانوں سے یکسر مختلف ہیں۔
۱۱۔ بریلویوں کے بنیادی عقائد(اردو)
مقالہ نگار:محمد صہیب جاوید
برصغیر پا ک وہند میں مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے معتقدین ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔یہ طبقہ فکر کچھ امور میں جمہور اہلسنت سے مختلف نقطہ نظر کاحامل ہے۔مقالہ نگار نے ان امور کو موضوعِ بحث بناکرثابت کیا ہے کہ اس بارے میں جمہور اہلسنت کا نقطہ نظر ہی درست ہے۔
۱۲۔۔۔ اسلام میں تعدّد ِازدواج کا تصوّر(اردو)
مقالہ نگار:سید جنید عالم مرحوم
اللہ تعالیٰ نے انسان کی جنسی تسکین کے لئے نکاح کو جائز قرار دیا اور مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے نکاح کی اجازت عنایت فرمائی ہے۔جس میں بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں،لیکن عصرحاضرمیں غیرمسلموں اورجدت پسندطبقہ کی طرف سے اس پر مختلف طرح کے اعتراضات کیے گئے ہیں۔ مقالہ نگار مرحوم نے تعدد ازدواج کے سلسلہ میں جمہور کے موقف کی وضاحت کے ساتھ ساتھ تعدد ازدواج کے بارے میں عقلی دلائل اور خود مغربی مفکرین کے اعترافات بھی نقل کیے ہیں۔
مقالہ نگارایک ٹریفک حادثہ میں شہید ہوگئے ہیں ،انّاللہ وانّاالیہ راجعون ۔قارئین سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
۱۳۔۔۔دعوت وتبلیغ کے رہنما اصول (اردو)
مقالہ نگار:عبد الرؤف
دعوتِ دین ایک اہم اور مقدس فریضہ ہے۔لیکن یہ کام اہم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نازک بھی ہے۔مقالہ نگار نے دعوت،داعی ، مخاطبین ِدعوت اور اسلوبِ دعوت کو موضوع بحث بنایاہے،اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
۱۴۔۔۔ مذاہب ِعالم میں عبادت کا تصور(اردو)
مقالہ نگار:انعام اللہ بٹ گرامی
ہرانسان میں فطری طور پر معبود کا تصور اور اس کو خوش کرنے کا جذبہ پایا جاتاہے۔اسی لئے ہرمذہب میں کچھ اعمال اس طرح کے ہوتے ہیں جو اس مذہب کے مسلمہ معبود کی خوشنودی کیلئے کیے جاتے ہیں،یہی اعمال عبادت کہلاتے ہیں۔مقالہ نگار نے اسلام ،عیسائیت ، یہودیت ،بدھ مت ، ہندو مت ، زرتشت،اور کنفیوشس ازم ان سات مذاہب میں پائے جانے والے تصورِ عبادت کو موضوع بحث بنایا ہے اور مفید مواد جمع کردیا ہے،جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام سے بڑھ کر کسی مذہب میں نہ معبود حقیقی کا صحیح تصور موجود ہے اور نہ ہی عبادت کا ایسا جامع نظام نظر آتا ہے۔

تعارف مقالہ جات ۱۴۳۰ھ

۱۔مراحل دعوۃ النبی(صلی اللہ علیہ وسلم)(اردو)
مقالہ نگار:محمداقبال مانسہروی
رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تیئیس سالہ دعوتی زندگی میں دعوتِ دین کاکام شخصی وانفرادی دعوت سے لے کرسلاطینِ زمانہ تک کئی مختلف مراحل میں فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوتی اسوۂ حسنہ میں قیامت تک آنے والے ہرداعی کے لیے بہترین نمونہ عمل موجود ہے۔ جس کی روشنی میں دعوت کاکام کرناچاہیے۔ مقالہ نگار نے ان مختلف مراحل پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ دعوت و تبلیغ کے ذرائع کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔
۲۔دعوۃُالرسو ل فی استقبال الوفود(اردو)
مقالہ نگار:شیراز انور حیدر آبادی
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موسمِ حج میں مختلف علاقوں سے مکہ مکرمہ آنے والے قبائل کواسلام کی دعوت پیش فرماتے اورانہیں اس دین کی مددونصرت کرنے پرآمادہ فرماتے۔انصارمدینہ نے اس دعوت پرلبیک کہی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کومدینہ منورہ آنے کی دعوت دی۔ہجرتِ مدینہ کے بعد ۹ ؁ھ کواسلامی تاریخ میں ’’عام الوفود‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں مختلف قبائل سے وفود آئے۔جن میں سے زیادہ ترنے اسلام قبول کیا۔ مقالہ نگار نے چارابواب پرمشتمل اس مقالہ میں انصارمدینہ کی مکہ مکرمہ آمداور خدمت ا قدس میں حاضری سے لے کر ۹ ھ میں مدینہ منورہ آنے والے مختلف وفود کے تعارف اورحضورِپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ان وفود کے ساتھ طرزِعمل کو موضوعِ بحث بنایا ہے،جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ غیرمسلم وفدکے ساتھ کس طرح پیش آناچاہیے۔
۳۔سیدنا ابو ہریرہؓ شخصیت و کردار(اردو)
مقالہ نگار:محمدزکریامرتضیٰ
وہ محسنینِ امت جنہوں نے علومِ نبوت کواپنے سینوں میں محفوظ فرماکرقیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے سامانِ ہدایت فراہم فرمایا، ان میں ایک نمایاں نام حضرت سیدنا ابو ہریرہ ؓ کا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ اگرچہ جامع صفات وکمالات کے حامل تھے ،لیکن آپ کا سب سے نمایاں وصف”حفظِ حدیث” میں اعلیٰ درجے کاکمال اورامت تک اسے پہنچانے کی لگن ہے۔ مقالہ نگار نے پانچ ابواب پرمشتمل اس مقالہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے تعارف ،آپ ؓ کے اوصافِ حمیدہ ،آپ کی علمی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ کے مجاہدانہ کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
۴۔اسلام کا نظامِ خلافت
مقالہ نگار:نذیر احمد چمنی
چھ ابواب پرمشمل اس مقالہ میں مقالہ نگارنے اسلام کے نظامِ خلافت پرمفصّل اورجامع گفتگوکی ہے جس میں امارت،امامت،اور خلافت کی تشریح،مقاصدِ خلافت،خلافت کی حیثیت ، شرائط اورانعقادِخلافت یعنی خلیفہ کے تقررکے طریقہ کومختلف ابواب وفصول میں بیان کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام سیاسی کانظامِ حکومت خلافت ہے نہ کہ جمہوریت۔
۵۔خلفاء اربعہ ؓاور انتخاب
مقالہ نگار:شیریں بہادر
رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پرملال کے بعدامتِ مسلمہ کی سیادت وقیادت بالترتیب امت کے جن چار برگزیدہ اصحاب کے ہاتھ آئی وہ حضرات خلفاء راشدین ہیں۔ مقالہ نگار نے پانچ ابواب پرمشتمل اپنے اس مقالہ میں شروع میں خلافت کی تعریف ، خلیفہ کے اوصاف اورخلفاء راشدین کی شرعی خلافت کو دلائلِ نقلیہ اور عقلیہ سے ثابت کیا ہے اور حضرات خلفائے راشدین کے مختصر تعارف کے بعدوہ طریق کار بھی ذکر کیا ہے جس کے مطابق امت نے ا ن حضرات کو اس عظیم الشان منصب کے لیے منتخب کیا۔
۶۔تلخیص اظہار الحق(اردو)
مقالہ نگار:محمد طاہر مسعود
ردِ عیسائیت کے سلسلے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے حضرات میں ایک بڑا نام مولانا رحمت اللہ کیرانوی ؒکا ہے۔مولانا موصوف کی تصانیف میں سے جس کتاب نے چہار دنگ ِعالم میں شہرت حاصل کی وہ ’’اظہار الحق‘‘ ہے۔یہ کتاب عربی زبان میں تھی اور عرصہ دراز تک اردو زبان کا دامن اس وقیع علمی سرمایہ سے خالی رہا۔اللہ تعالی نے یہ سعادت جامعہ دارالعلوم کراچی کو عطا فرمائی،چنانچہ بانی جامعہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور جامعہ کے ناظمِ اوّل مولانا نور احمد صاحب ؒ کے حکم سے جامعہ کے استاذِحدیث حضرت مولانااکبر علی صاحب ؒنے اس کا اردو ترجمہ کیا اورشیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم نے تشریحی حواشی لکھے ،یوں یہ عظیم کتاب ’’بائبل سے قرآن تک ‘‘کے نام سے تین ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی۔مگر چونکہ یہ مبسوط کتاب تقریباً۱۸۰۰ صفحات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کافی طویل ہے، جس سے مصروف کارلوگ زیادہ استفادہ نہیں کرپاتے اس لئے مقالہ نگار نے اپنے مقالے میں اس عظیم شاہکار کے پہلے تین بابوں کی تلخیص کی ہے۔تاکہ عام لوگوں کے لیے اس سے استفادہ آسان ہوجائے۔
۷۔حدیث سے اہلِ حدیث تک(اردو)
مقالہ نگار:عبدالوحیدپشاوری
’’حدیث اور اہلِ حدیث‘‘ کے نام سے علمی حلقوں سے خراجِ تحسین وصول کرنے والی معروف کتاب کو کم فرصت رکھنے والے قارئین کے لیے قابلِ استفادہ بنانے کے لئے مقالہ نگار نے اس کی تلخیص کی ہے۔تلخیص میں طریقہ کاریہ اختیارکیاہے کہ سب سے پہلے مسئلہ زیر بحث کاعنوان ذکرکرکے اس کے تحت مذاہب اربعہ اوراہلِ حدیث ہردوفریق کااس مسئلہ کے بارے میں موقف ذکرکیاہے،پھر متعلقہ احادیث کاترجمہ حذفِ مکررات کے ساتھ کرکے آخرمیں احادیث سے ثابت ہونے والے مسلک کی نشاندہی کردی ہے۔موصوف کایہ مقالہ’’ تلخیصِ ادلہ ‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔اللہ تعالیٰ قبول فرما کر نافع بنائے۔
۸۔ ذکری فرقہ(اردو)
مقالہ نگار:محمدزکریا خضداری
رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے ظہورِمہدی کی خبردینے کے ساتھ ساتھ ان کی علامات بھی بیان فرمائی ہیں۔احادیث میں بیان کردہ مہدی علیہ الرضوان کا توابھی تک ظہورنہیں ہوا،البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مختلف ادوارمیں مختلف لوگ اپنے بارے میں مہدی ہونے کادعویٰ کرتے رہے ۔باوجوداس کے کہ ان میں مہدی ہونے کی علامات میں سب سے بڑی علامت نزولِ مسیح نہیں پائی گئی بہت سے سادہ لوح لوگ ان کے پیچھے چل پڑے۔ان ہی مدعیانِ مہدویت میں سے ایک نام محمد مہدی اٹکی کاہے ۔اس نے ۹۷۷ ء میں اعلانِ مہدویت کرکے ذکری فرقہ کی بنیاد رکھی، جس کا اپنے عقائد اور خیالات کی رو سے اسلام سے ادنی تعلق بھی نہیں ہے۔مقالہ نگار نے اس فرقہ کے تاریخی پسِ منظر، عقائد واعمال اور عبادات کے حوالے سے مفید مواد پیش کیا ہے ۔

تعارف مقالہ جات ۱۴۳۱ھ

۱۔’’الدرالمنثور‘‘ کی اسرائیلی روایات کا جائزہ(پہلے دس پارے) (اردو)
مقالہ نگار:عتیق الرحمن
قرآن کریم میں انبیاء وامم سابقین کے واقعات کہیں مختصر اورکہیں مفصل بیان فرمائے گئے ہیں۔بعض مفسرین نے اسرائیلی ادب سے ان واقعات کی تکمیل کی کوشش کی ہے۔جس کی وجہ سے ان واقعات کے ذیل میں بہت سی اسرائیلی روایات ان مفسرین کی تفاسیر کا حصہ بن گئیں۔چونکہ یہ روایات عموماًدلچسپ اورحیرت انگیز تفصیلی واقعات پرمشتمل ہوتی ہیں اس لیے بہت جلدمقبول اورزبان زد عوام ہوجاتی ہیں۔ان روایات کی اصلیت اوراستنادی حیثیت واضح کرنے کی ضرورت ہے۔عربی میں اس حوالہ سے کام ہواہے لیکن اردومیں ابھی تک اس موضوع پربقدرضرورت کام نہیں ہو سکاتھا۔ مقالہ نگارنے اس ضرورت کے پیش نظراس موضوع کواختیارکیااورمشہورتفسیر’’الدرالمنثور‘‘ کے پہلے دس پاروں میں پائی جانے والی اسرائیلی روایات کے جائزہ کے ساتھ ساتھ اسرائیلیات کے تعارف اورتفاسیرمیں اسرائیلیات کی دراندازی کے اسباب بھی بیان کیے ہیں۔
۲۔انبیائے سابقین کا اسلوبِ دعوت۔قرآن کریم کی روشنی میں (اردو)
مقالہ نگار:عبدالحکیم
قرآنِ کریم میں دعوت اور ا س کی جزئیات سے متعلق مفصل احکام موجودہیں۔اسی طرح قرآن کریم نے انبیائے سابقین کی دعوت کے واقعات کوبھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایاہے۔ان واقعات سے واقفیت داعی کے لیے بہت ضروری ہے،کیونکہ حکمت وموعظت سے بھرپوران واقعات میں ایک داعی کے لیے بے شمارسبق اورتسلی کاسامان موجود ہے ۔مقالہ نگار نے اس مفیداوراہم موضوع کواختیارکیا۔چارابواب پرمشتمل اس مقالے میں حضرت نوح ،حضرت ہود،حضرت صالح،حضرت ابراہیم،حضرت لوط،حضرت شعیب،حضرت موسیٰ اورحضرت عیسیٰ علی نبیناوعلیہم الصلوۃ والسلام کے مراحلِ دعوت،اسلوبِ دعوت،قوم کے ردعمل اوران کے جوابات وغیرہ کئی موضوعات کے حوالہ سے بہت گراں قدراورمفید مواد جمع کردیا ہے۔
۳۔نظم وضبط قرآن کی روشنی میں (اردو)
مقالہ نگار:محمد فخر
انفرادی واجتماعی زندگی میں نظم وضبط کی اہمیت سے انکارممکن نہیں۔فطرت کے اصولوں اور دین کے دئے گئے احکام میں ایک جامع نظم وضبط موجود ہے۔ کسی بھی جماعت یاقوم کی بقامیں اس کے نصب العین اورمقاصدکے بعدسب سے اہم ترین عنصراس کانظم وضبط اورباہمی اتحادہوتاہے۔اس طرح نظم وضبط میں کمی بسا اوقات اجتماعی اور انفرادی سطح پر انتشار اور افتراق کا باعث بھی بن جاتی ہے اس لئے اس موضوع کی اہمیت کودیکھتے ہوئے مقالہ نگار نے اس موضوع کواختیارکیا۔چارابواب پر مشتمل اس مقالہ میں مقالہ نگارنے نظامِ کائنات اورعقائداسلام میں پائے جانے والے نظم وضبط پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی نظم کے حوالہ سے قرآنی تعلیمات اور انبیاء کرام علیہم السلام کی مبارک زندگیوں سے نظم وضبط کی روشن مثالیں پیش کردی ہیں۔
۴۔عیسائیوں کو دعوتِ اسلام۔۔ قرآن وانجیل کے تقابلی مطالعہ سے (اردو)
مقالہ نگار:محمد خرم شہزاد
اسلام کے معاصر مذاہب میں غالب اکثریت ہونے کا دعوی عیسائیت کا ہے۔لیکن عیسائی دنیا کے سامنے ان کے مذہبی راہنما مذہب کے نام پر تقدس کے غلاف میں بند کرکے جو کچھ پیش کررہے ہیں وہ تضادات واختلافات کامجموعہ اور خلافِ عقل معتقدات ہیں۔ضرورت ہے کہ عیسائی دنیا کے سامنے اسلام،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی حقانیت واضح کی جائے۔مقالہ نگار نے اناجیل اربعہ کی استنادی حیثیت کے جائزہ کے ساتھ ساتھ قرآن مجیدکی حقانیت کو ثابت کیاہے۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کا خاکہ قرآن مجید اور اناجیل اربعہ کی روشنی میں نیز سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کتب سابقہ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر سابقہ کتب سے کچھ بشارات ذکرکرکے عیسائی حضرات کو اسلام کی دعوت پیش کی ہے ۔
۵۔ تدوین الحدیث فی عہدالرسالۃ وعصر الصحابۃ ( عربی)
مقالہ نگار:عبدالحی چترالی
حجیتِ حدیث پر منکرینِ حدیث کا ایک اعتراض یہ ہے کہ احادیث عہدِ رسالت اورعہدِ صحابہ میں نہیں بلکہ اس کے بہت عرصہ بعد لکھی گئیں۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم (رئیس جامعہ دارالعلوم کراچی) نے اپنی معروف کتاب…’’کتابتِ حدیث عہدِ رسالت میں ‘‘… میں اس اعتراض کا شافی و کافی جواب دیاہے۔یہ کتاب اردوزبان میں ادارۃ المعارف کراچی سے شائع ہوکرعلمی حلقوں سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہے لیکن عربی کادامن اس وقیع علمی شاہکارسے خالی تھا۔مقالہ نگار نے اس کتاب کو عربی زبان میں منتقل کرکے اس خلاکوپرُکیاہے۔
۶۔حضرت مجدد الف ثانی اور دینِ الہی کے مقابلے میں ان کی دعوتی حکمت عملی( اردو)
مقالہ نگار:محمد ہارون الرشید
ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ حضرت مجدد الف ثا نی ؒ کے بغیر نامکمل ہے۔یہ حضرت ہی تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اکبری فتنہ کے اثرات ختم کرنے اور ہندوستان میں احیائے دین کے لیے منتخب فرمایا۔موجودہ دور میں حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی دعوتی حکمت عملی کوامت کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت پہلے سے دوچند ہوگئی ہے۔چنانچہ مقالہ نگارنے اسی کو موضوع بحث بناتے ہوئے چارابوا ب پرمشتمل اس مقالے میں اکبراور اس کے خود ساختہ دینِ الہٰی،حضرت مجدد الف ثانی ؒ اور ان کی تجدیدی خدمات پرخامہ فرسائی کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر اور دعوت ِمجددی اور اس کی عصری تطبیقات مکتوبات کی روشنی میں ،جیسے اہم موضوعات بھی زیر بحث لائے ہیں۔
۷۔فقہائے سندھ کے مختصر حالات (اردو)
مقالہ نگار:ناصرالدین
برصغیرپاک وہندمیں اسلام سندھ کے راستے سے آیا۔اسی وجہ سے سندھ کو’’ باب الاسلام‘‘ کہاجاتاہے۔عہدِ فاروقی سے ہی سندھ کی طرف لشکرِ اسلامی نے مہمات کا آغاز کردیاتھا۔اس خطہ میں بہت سے اہلِ علم وفضل گزرے ہیں۔لیکن ان اصحابِ کمال کے تذکرہ پراردوزبان میں کوئی مستقل کام نہیں ہوسکا۔مقالہ نگار نے اس ضرورت کومحسوس کرتے ہوئے اس موضوع کومنتخب کیا۔تین ابواب پرمشتمل اپنے مقالے میں سندھ کا تعارف،اس میں دینی علوم کی ترویج،سندھی زبان میں فقہ کا آغاز اور اس کے ارتقائی ادوار کاجائزہ لینے کے ساتھ ساتھ پہلی صدی سے نویں صدی ہجری تک کے سندھی فقہاء کے حالات اورتصنیف کی جانے والی کتب پر روشنی ڈالی ہے۔یقینایہ ایک مفید علمی کاوش ہے۔
۸۔حضرت مولانا حماداللہ ہالیجویؒ۔۔ شخصیت وخدمات (اردو)
مقالہ نگار:محمد یٰسین
اہلِ علم ومعرفت کے حالات وسوانح ان کی بابرکت صحبتوں کانعم البدل ہوتی ہیں ۔بعدمیں آنے والے لوگ ان تذکروں کے ذریعے مستفید ہوتے ہیں۔مقالہ نگارنے اسی رسم تابندہ کوبرقراررکھتے ہوئے خطۂ سندھ سے تعلق رکھنے والی ماضی قریب کی ایک معروف شخصیت حضرت مولانا حماداللہ ہالیجویؒ کے حالات وخدمات کو موضوع ِبحث بنایاہے۔نوابواب پرمشتمل اس مقالے میں حضرت کاخاندانی تعارف،تصوف و سلوک ، طریقۂ تربیت،مذہبی وسیاسی خدمات،تصانیف،حضرت کے تفسیری افادات، کے ساتھ ساتھ اکابرومعاصرین کی نظرمیں حضرت کامقام اور خلفاء کے مختصرحالات بھی بیان کیے ہیں۔
۹۔اسلامی حکومت کے ذرائع آمدنی اور ٹیکس کا نظام (اردو)
مقالہ نگار:محمد فراز سکندر
نظامِ حکومت چلانے کے لیے مالیاتی نظام کی اہمیت سے انکارممکن نہیں۔قدیم وجدید متمدن ریاستیں عموماً اپنا نظمِ حکومت چلانے کے لیے ظالمانہ ٹیکسوں کو لازم سمجھتی ہیں۔جب کہ اسلام نے ایسا مالیاتی نظام متعارف کروایا، جس کے ذریعے معاشرے میں رفاہیت وخوش عیشی،عدل وانصاف کے ساتھ ساتھ امن وسلامتی کا علم بلند ہوا۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آزادی کوتقریباسڑسٹھ سال گزرجانے کے باوجودابھی تک اسلامی مالیاتی نظام پوری طرح نافذنہیں ہوسکا۔ مغربی نظام معیشت کے زیراثرنظم حکومت کاساراانحصارٹیکسوںپرہی ہے۔ تین ابواب پرمشتمل اس مقالہ میں مقالہ نگار نے ٹیکس کا تعارف، تاریخ،اسلام کے عادلانہ نظام معیشت اور اسلامی حکومت کے ذرائع آمدنی میں سے عشر وخراج پر گفتگو کی ہے۔
۱۰۔مغربی تہذیب کا تعارف اور اس کاتصورِ انسان (اردو)
مقالہ نگار:عبداللہ منصور
امت مسلمہ کا جن معاصر تہذیبوں سے واسطہ رہاہے۔ان میں اب غالب تہذیب ’’مغربی تہذیب‘‘ ہے۔مغربی تہذیب اور مغربی فلسفہ نسل نو کو جس تیزی سے تباہی کے دہانے کی طرف لے کر جارہاہے ہمارے ہاں ابھی تک اس سطح پرنہ اسے سمجھا گیا ہے،نہ اس کے معتقدات کی تردید کے بارے میں کوئی خاص پیش رفت کی جارہی ہے۔مقالہ نگار نے اپنے حصہ کی شمع جلاتے ہوئے اس موضوع کواختیارکیا۔دوابواب اورکئی فصول پرمشتمل اس مقالے میں مغربی تہذیب کا تعارف،اس کے ادوار اور خاص طورپراس کے تصور انسان کو موضوع بحث بناتے ہوئے تقابلی مطالعہ کے طورپر اسلام نے انسان کا جو تصور پیش کیاہے اس پر دل نشیں انداز میں بحث کی ہے۔
۱۱۔یہودیت ۔۔ایک مطالعہ (اردو)
مقالہ نگار:حمیداللہ چمنی
امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن معاصر اقوام سے واسطہ پڑا ہے ان میں ایک نمایاں نام’’یہود ‘‘کا ہے۔قرآن کریم میں بھی جگہ جگہ ان کا تذکرہ موجود ہے۔روز اول سے مسلمانوں کاسلوک ان کے ساتھ خیرخواہانہ جب کہ ان کامسلمانوں کے ساتھ رویہ معاندانہ رہاہے۔ یہ ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بُنتے رہے ،اورحتی الامکان اسلام اورمسلمانوںکونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ مقالہ نگار نے چارابواب پرمشتمل اپنے مقالے میں یہودیوں کی تاریخ،ان پر ہونے والے انعامات الہیہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہودی سازشوں، منصوبوں، اور تحریکوں کے حوالہ سے مفید مواد جمع کیاہے۔
۱۲۔آغاخانیت ایک نظر میں (اردو)
مقالہ نگار:عبدالمحسن
آغا خانیت روز اول سے تقیہ کی پالیسی پر گامزن ہے۔آغاخانی لوگ ہر علاقہ کی غالب اکثریت میں گُھل مل جاتے ہیں۔جس کی بناپرعام مسلمان ان کے عقائد سے واقف نہیں ہوتے ۔یہ لوگ خود کومسلمان ظاہرکرتے اورمسلمانوں کی عبادات میں شریک ہوتے ہیں،اس وجہ سے عوام ان کو مسلمان سمجھتی اوران کے ساتھ مسلمانوں والابرتاؤکرتی ہے۔مقالہ نگار نے تین ابواب پرمشتمل اپنے اس مقالے میں آغاخانیت کی تاریخ، عقائد ، اعمال وعبادات کو موضوعِ بحث بناکرثابت کیاہے کہ ان کے عقائد مسلمانوں سے یکسر مختلف ہیں۔
۱۳۔غامدی نظریات کا تنقیدی جائزہ (اردو)
مقالہ نگار:محمد مصطفی سکھروی
’’جاوید احمد غامدی صاحب‘‘ متجددین کی فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے۔غامدی صاحب نے تصورِفطرت،سنت ابراہیمی جیسے کچھ اصول پیش کیے، پھربزعمِ خود قرآن وسنت کی تشریح ان اصولوں کی روشنی میں کی،جس میں وہ جمہور امت کے مسلمات نظرانداز کرتے چلے گئے۔ انہوں نے اپنے منفرد نظریات جدیداسلوب اورنئی تحقیق کے طورپرپیش کیے۔ مقالہ نگار نے تین ابواب پرمشتمل اپنے اس مقالے میں غامدی صاحب کے انہی اصولوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اوران میں موجود سُقم کی نشاندہی کی ہے۔

تعارف مقالہ جات ۱۴۳۲ھ

۱۔معارف القرآن (للکاندہلویؒ)اوراہلِ کتاب (سورہ فاتحہ ،بقرہ آیت ۱تا۱۱۹)اردو مقالہ نگار:محمدعثمان رفیق
۲۔معارف القرآن (للکاندہلویؒ)اوراہلِ کتاب (سورہ یونس تا سورہ فرقان)اردو مقالہ نگار:فضل ہادی
۳۔معارف القرآن (للکاندہلویؒ)اوراہلِ کتاب (آخری دس پارے) اردو مقالہ نگار:سلمان محمود
شریعت میں جب’’اہلِ کتاب‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تواس سے مرادیہودونصاریٰ ہوتے ہیں،یہودونصاریٰ سے اسلام اورمسلمانوں کوابتداہی سے واسطہ پڑا۔مکہ مکرمہ (زادہااللہ شرفا)میں بالواسطہ اورمدینہ منورہ(زادہااللہ شرفا) میں بلاواسطہ۔یہ سلسلہ اس وقت سے لے کراب تک جاری ہے ۔قرآن کریم میں جگہ جگہ ان سے متعلق احکام وہدایات موجودہیں ،بلکہ قرآن مجیدکی ابتدائی دوبڑی سورتیں(سورۂ بقرہ اورسورۂ آل عمران) یہود و نصاریٰ سے متعلق ہیں۔ان ہدایات کوسمجھنااوران سے رہنمائی لیناویسے توہردورمیں اہم اورضروری رہاہے مگر آج جب کہ دنیامیں سیاسی اور معاشی میدانوں میں ان (یہودونصاریٰ)کوبرتری حاصل ہوگئی ہے توقرآن کریم کی ان ہدایات سے رہنمائی حاصل کرنے کی اہمیت پہلے سے کہیںزیادہ بڑھ گئی ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظراس موضوع کومنتخب کیاگیا۔
علمی حلقوں میں حضرت مولانامحمدادریس کاندہلوی اورآپ کی تفسیر’’معارف القرآن” کوجومقام حاصل ہے ،وہ محتاجِ بیان نہیں۔ حضرت کواللہ تعالیٰ نے دیگرعلمی کمالات کے ساتھ ساتھ علم کلام پربھی خصوصی دسترس عطافرمائی تھی۔ تفسیر’’معارف القرآن ‘‘میں اہلِ کتاب سے متعلق آپ نے مفصل اورجامع گفتگوفرمائی ہے۔ ضرورت تھی کہ اس گفتگو میں ذکرکی جانے والی احادیث، صحابہ کرام ومفسرین کے اقوال اورکتابِ مقدس (بائبل)کی آیات کی تخریج کی جائے۔چنانچہ یہ کام مذکورہ بالا تین ساتھیوں میں تقسیم کیاگیا۔چونکہ مقالہ متعین وقت میں جمع کرانالازمی ہے ،اورادھرسورہ بقرہ میں اہل کتاب سے متعلق کافی تفصیلی بیان ہے، اس لیے ابتدائی دس پاروں میں سورہ بقرہ آیت ۱۱۹تک جب کہ درمیانی دس پاروں میں سورہ فرقان تک ہی کام ہوسکا،البتہ آخری دس پاروں کاکام بحمداللہ مکمل ہوگیاہے۔
۴۔تخریج احسن الحدیث فی ابطال التثلیث(اردو)
مقالہ نگار:اسامہ محمد
عیسائی دنیاجن باتوں کوعقائدکادرجہ دے کر صدیوں سے مانتی چلی آرہی ہے ،ان میں سے ایک عقیدہ ’’عقیدۂ تثلیث‘‘بھی ہے ،اس مزعومہ عقیدہ کے مطابق نعوذباللہ خداتین اقانیم سے مرکب ہے ،باپ،بیٹااورروح القدس ،یہ تینوں مل کرایک تثلیثی وحدت تیارکرتے ہیں اور باوجود اپنے الگ اور مستقل وجودکے حیرت انگیز طوریہ تینوں مل کرتین نہیں بلکہ ایک خدابن جاتے ہیں۔یہ مزعومہ عقیدہ اس قدرخلاف عقل ونقل ہے کہ اس کے لیے اگرچہ کسی تردیدکی ضرورت نہیں،تاہم عیسائی حضرات چونکہ اس کوعقیدہ کادرجہ دیتے ہیں،اس لیے مسلمان علماء اس عقیدہ کی مدلل تردیدکرتے چلے آئے ہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ’’ احسن الحدیث فی ابطال التثلیث ‘‘ہے۔یہ حضرت مولانامحمدادریس کاندہلوی رحمہ اللہ کاتحریرفرمودہ رسالہ ہے۔یہ رسالہ اگرچہ اپنے علمی مضامین اوردلائل کے لحاظ سے جامع تھا،مگرعام قاری کے لیے استفادہ مشکل تھا۔ضرورت تھی کہ اس کونئے سرے سے آسان اورعام فہم اندازمیں مرتب کیاجائے تاکہ عام قاری بھی اس سے استفادہ کرسکے۔مقالہ نگارنے اپنے مقالہ میں مفیدحواشی تحریرکرکے کتاب کوآسان اورعام قاری کے لیے قابلِ استفادہ بنانے کی اچھی کوشش کی ہے۔
۵۔الدرالمنثورکی اسرائیلی روایات کاجائزہ (درمیانی دس پارے) (اردو) مقالہ نگار:عدنان علی
آیات ِقرآنیہ کی تفسیرمیں بعض مفسرین نے اسرائیلی روایات سے نہ صرف استفادہ کیابلکہ باقاعدہ انہیں اپنی تفاسیرمیں شامل کردیا۔ان حضرات کے پیش نظرجوبات بھی تھی لیکن یہ ایک سامنے کی حقیقت ہے کہ رفتہ رفتہ یہ روایات زبان زدخاص وعام ہوگئیںاوران آیات کی تفسیرسمجھی جانے لگیںجن کے ضمن میں انہیں بیان کیاگیاتھاحالانکہ ان کی حیثیت تفسیر کی نہ تھی ۔
کتبِ تفسیرمیں ایک معروف نام ’’الدرالمنثور‘‘کاہے۔اس میں بھی دیگرکئی تفاسیرکی طرح اسرائیلی روایات پائی جاتی ہیں۔ان روایات کے جائزے کے لیے اس موضوع کاانتخاب کیاگیا۔ ابتدائی دس پاروں کاکام التخصص فی الدعوۃ والارشاد ۱۴۳۱ھ؁ کے متخصص مولوی عتیق الرحمن سلمہ نے کیا۔اس کے بعد درمیان کے دس پاروں کاکام موصوف کے ذمہ لگا۔چونکہ مولوی عتیق الرحمن سلمہ اپنے مقالہ کے مقدمہ میں اسرائیلیات کے حوالہ سے مفصل بحث کرچکے تھے اس لیے مقالہ نگارنے مقدمہ میں علمِ تفسیر کا تعارف، تفسیر کے مآخذبیان کرنے کے بعدسورۂ ہودسے لے کرسورۂ نمل تک پائی جانے والی اسرائیلی روایات کاجائزہ لیاہے۔مقالہ نگارنے طریقہ کاریہ اختیار کیا ہے کہ ہرسورت میں جن آیات کے ضمن میں کوئی اسرائیلی روایت بیان ہوئی ہے ،پہلے وہ آیاتِ قرآنیہ ، پھران کا ترجمہ ،اس کے بعدتفسیرمیں مذکور اسرائیلی روایت نقل کرکے آخرمیں ان مفسرین کے مختصرتبصرے باحوالہ نقل کیے ہیںجنہوںنے اس روایت کواسرائیلی روایت قراردیاہے ۔اوران کی حیثیت پربھی بحث کی ہے۔
۶۔برصغیرپاک وہندکے دعوتی ادارے اورشخصیات (اردو)
مقالہ نگار:سجاداحمد
اسلام کی آمدکے بعدبرصغیرپاک وہندمیں مسلمانوں نے تقریباًایک ہزارسال تک حکومت کی ،اس کے علاوہ اس خطہ کی ایک اوراہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہردورمیں بفضلہ تعالیٰ مختلف دعوتی ادارے اورشخصیات دعوتِ دین میں مصروف عمل رہیں۔کچھ تحریکات توایسی بھی اٹھیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے عالمی سطح پردعوت کاکام لیا۔ان شخصیات ،اداروں اورتحریکات کاجائزہ لینے کے لیے اس موضوع کاانتخاب کیاگیا۔
مقالہ نگارنے سات ابواب پرمشتمل اپنے اس مقالے میں شروع میں دعوتِ دین کی اہمیت،اس کے تقاضے اورعصرِحاضرمیں دعوت دین کی حکمت عملی وغیرہ جیسے موضوعات پرگفتگو کے بعدبرصغیرپاک وہندکے چنددعوتی ادارے،شخصیات اورتحریکوںکا تعارف کروایاہے۔چونکہ یہ ایک طویل موضوع ہے،اس لیے اس مقالہ میں تمام شخصیات،تحریکوں اوراداروں کاتعارف شامل نہیں ہوسکا،البتہ کام کرنے والوں کے لیے اس موضوع پرمزیدکام کرنے کی بنیادیں فراہم کردی گئی ہیں۔
۷۔دعوتِ دین اورعصرِحاضر۔مسائل ومشکلات(اردو)
مقالہ نگار:برہان اللہ فاروقی
دعوت انبیاء علیہم السلام کابنیادی کام تھا ۔ انبیاء علیہم السلام کواپنے اپنے زمانے میں مختلف قسم کی مشکلات کاسامناکرناپڑا۔خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکارِدعوت اس امت کے سپردہوا۔چونکہ یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کاورثہ ہے ،اس لیے ان کی طرح اصحاب دعوت کو ہر دور میں کچھ نہ کچھ مسائل ومشکلات کاسامنارہتاہے۔عصرحاضر میں دعوت کے حوالہ سے کس قسم کی مشکلات اورمسائل موجودہیں،ان کاجائزہ لینے کے لیے مقالہ نگارنے اس موضوع کاانتخاب کیا۔
چارابواب پرمشتمل اس مقالے میں دعوتِ دین کے محاسن وفضائل،دعوت کی راہ میں حائل مسائل ومشکلات،ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز ، داعی ،دعوت اورمخاطبین سے متعلق شبہات اوران کے جوابات پرمفصل گفتگوکے بعدآخر میں دعوتِ دین کاکام کرنے والوں کی خدمت میں کچھ مخلصانہ گزارشات پیش کی ہیں جن پرعمل کرکے داعی افراط وتفریط سے بچتے ہوئے احسن طریقے سے د عوتی کام سرانجام دے سکتاہے۔
۸۔المقارنۃ بین التوراۃوالقرآن (قرآن کریم اورتورات کاتقابلی جائزہ) (اردو)
مقالہ نگار :شمس الحق
کتب سماویہ میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوعطاکی جانے والی کتاب’’ تورات‘‘ایک بلندمقام کی حامل کتاب ہے ۔قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کی تعریف فرمائی گئی ہے،مگرچونکہ یہ ایک مخصوص زمانہ کے لیے واجب العمل تھی، اس لیے حفاظتِ الہٰی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مرورزمانہ کا شکار ہوئی ،جس کے نتیجے میں وہ اپنی اصل شکل میں باقی نہیںرہی۔جب کہ’ ’ قرآن کریم ‘‘کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم اب تک الحمدللہ محفوظ وموجودہے اوران شاء اللہ قیامت تک باقی رہے گا۔اس لحاظ سے دیکھاجائے توقرآن کریم اور (موجودہ) تورات کا تقابل درست نہیں،لیکن دعوتی نقطہ نظرسے اس لیے مفیدہے کہ اس سے قرآنِ کریم کی حقانیت واضح ہوتی ہے۔
مقالہ نگارنے چارابواب پرمشتمل اس مقالہ میں موجودہ تورات کاتعارف،ابتدائی دورکی سرگزشت،بنی اسرائیل کی مختلف مملکتوں میں تورات کاحال،تورات کی تدوینِ جدید،اور بنی اسرائیل کی تاریخ ذکرکرنے کے بعدحضرت آدم علیہ السلام سے حضرت یوسف علیہ السلام تک کے واقعات میں قرآن کریم اورتورات کاتقابلی جائزہ پیش کیاہے۔اس کے علاوہ موجودہ بائبل میں انبیائے سابقین پرجوشرمناک الزامات لگائے گئے ہیں ،ان کی ایک جھلک بھی دکھائی گئی ہے تاکہ معلوم ہوکہ یہ کتابیں یقینااپنی اس اصلی شکل میں نہیں ہیں جس طرح آسمان سے نازل ہوئی تھیں،کیونکہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہی بھیجے ہوئے پیغمبروں کی کردارکشی شروع کردے۔
۹۔یہودیت کااصل چہرہ (اردو)
مقالہ نگار :نوراکرم
’’یہود‘‘مسلمانوں کے شروع سے حریف چلے آرہے ہیں،اگرچہ ان کے ساتھ مسلمانوں کابراہِ راست واسطہ ہجرتِ مدینہ کے بعد پڑا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ان کی کچھ رعایت بھی فرمائی اوران کے ساتھ معاہدات بھی کیے لیکن اس شفقت کے جواب میں بجائے اس کے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لاتے یاکم سے کم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی سے باز رہتے ،الٹاوہ مخالفت پراترآئے بلکہ بالفاظ قرآنی عداوت کے لحاظ سے’’ ا شد الناس‘‘ ثابت ہوئے ،انہوں نے اسلام اورمسلمانوں کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ان کے اس طرزعمل کے نتیجے میں قرآن کریم نے بھی ان کا سابقہ ریکارڈ کھول دیااورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں کوتسلی دی کہ یہودکی یہ سازشیںکوئی نئی بات نہیں بلکہ ہردورکے انبیاء کے خلاف سازشیں کرناان کی فطرت اورطبیعت میں داخل ہے۔قرآن کریم نے سورۂ بقرہ میں اوردیگرمختلف مقامات پران کی ان عاداتِ سیئہ کوبے نقاب کیا۔آج جب کہ یہودنے عیسائیوں کوبھی مسلم دشمنی میں اپنے ساتھ شامل کرلیاہے اورانہیں اپنے لیے ڈھال کے طورپراستعمال کررہے ہیں تویہودکی فطرت کو سمجھنااورزیادہ ضروری ہوگیاہے۔اسی اہمیت کے پیش نظرمقالہ نگارنے اس موضوع کاانتخاب کیا۔
مقالہ نگارنے چھ ابواب پرمشتمل اپنے اس مقالے کے مقد مہ میں یہودونصاریٰ کامذہبی اورتاریخی اعتبارسے تفصیلی تعارف کرانے کے بعدیہودکی مزعومہ دجالی حکومت کی منصوبہ بندی اورخاکہ پیش کیا،یہودی کس طرح سے الفاظ اورجملوں میں ہیرپھیرکرتے ہیں،اس کاکچھ نمونہ،یہودکی انسان اورخاص طورپرمسلمان دشمنی کاتذکرہ کرنے کے بعد آخر میں یہودکی ایک خاص عاد ت پروپیگنڈہ پرمفصل گفتگوکی ہے۔مقالے میں کئی اہم سروے رپورٹیں بھی شامل کی گئی ہیں ،اس کے علاوہ اردو،عربی اورانگریزی کتب کے علاوہ اخبارات وجرائد اورویب سائٹس سے بھی استفادہ کیاگیاہے۔
۱۰۔یہودی اور عیسائی فرقوں کاتحقیقی جائزہ (اردو)
ریاض احمد چترالی
یہودونصاریٰ کی تاریخ کامطالعہ کرنے سے پتہ چلتاہے کہ وہ سیاسی،اجتماعی اورمذہبی ہرلحاظ سے افتراق وانتشارکاشکارہوئے،احادیث نبویہ سے بھی ان کے سترسے زائد فرقوں میں بٹنے کااشارہ ملتاہے ۔ ان فرقوں کے بارے میں قدیم عربی کتابوں میں تو تفصیلات مذکور ہیں لیکن اردومیں اس موضوع پرکوئی معتدبہ کام نہیں ہوا۔اسی خلاکوپرکرنے کے لیے مقالہ نگارنے اس موضوع کومنتخب کیا۔
یہ مقالہ تین ابواب پرمشتمل ہے ۔پہلے دوابواب میں یہودکی تاریخ ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مختصرحالات ،یہودکا سیاسی،اجتماعی اورمذہبی تفرق ذکرکرنے کے بعد مختلف فرقوں کاتعارف ان کے عقائد ونظریات کامختصرتذکرہ اوران کی مختلف خصوصیات بیان کی گئیں۔تیسرے باب میں عیسائیت کاتعارف ،تثلیث ،حلول وتجسم اورکفارہ جیسے عقائد کاذکرکرنے کے بعدآخرمیں کچھ عیسائی فرقوں کاتعارف کرایاگیاہے۔اگرچہ وقت کی قلت کی بناپرمقالہ نگارکو عیسائی فرقوں کامکمل تعارف کرانے کا موقع تونہیں مل سکامگریہودی فرقوں پرانہوں نے کافی تفصیل سے گفتگوکی ہے۔
جاری ہے……
٭٭٭