مستقبل کی ضروریات اور منصوبے

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جامعہ دارالعلوم کراچی اس وقت عظیم تعلیمی و تربیتی ادارے کے طور پر کام کررہاہے، جس کے مختلف شعبوں کا اجمالی خاکہ اوپر پیش کیا گیا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے احاطے ہی میں ڈاکخانہ، رفاہی شفاخانہ، طلبہ کے لئے ورزش اور کھیل کے میدان موجود ہیں۔ مختلف شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظرجامعہ دارالعلوم کراچی میں روزاول سے تعمیر کا کام بھی مسلسل جاری ہے اور اب تک ایک دن کے لئے بھی نہیں رُکا۔ الحمدللہ ضرورت کی بہت سی تعمیرات مکمل ہوگئی ہیں۔ اس کے باوجود عظیم الشان تعمیری کاموں کی فوری ضرورت ہے۔
دارالطلبہ
طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جدید دارالطلبہ (ہوسٹل) کی تعمیر کا کام جاری ہے، یہ دارالطلبہ پانچ وسیع عمارتوں پر مشتمل ہے جن میں سے بحمداللہ تین عمارتیں مکمل ہوچکی ہیں، جن کا مختصر تذکرہ ماقبل میں آچکا ہے، جبکہ مزید دو عمارتیں دار علی اور دار حسنین تعمیر ہونا باقی ہیں، تعمیر شدہ عمارتوں کی جملہ تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
ہر عمارت چار منزلہ ہے۔ ہرکمرہ ۲۲x۱۶ فٹ سائز کا ہے جس میں پانچ طلبہ کی رہائش ہے۔ ہر طالب علم کے لئے بیڈ، میز کیبنٹ، الماری، بجلی اور پنکھے کا الگ الگ انتظام کیا گیاہے۔ پانچ عمارتوں میں طلبہ کے رہائشی کمروں کی مجموعی تعداد ۷۰۰ ہوگی جن میں تقریباً تین ہزار دو سوبیس (۳۲۲۰) طلبہ وسعت ، صفائی ستھرائی، اور آرام و راحت کے ساتھ سکونت رکھ سکیں گے۔ انشاء اﷲ العزیز۔
جدید دارالطلبہ کی تین عمارتوں میں سے ہر عمارت سے متعلق تفصیلات درج ذیل ہیں:
دار الصدیق میں طلبہ کے عام رہائشی کمروں کی تعداد: ۱۱۶
دار الفاروق میں طلبہ کے عام رہائشی کمروں کی تعداد: ۱۱۶
دار عثمان میں طلبہ کے عام رہائشی کمروں کی تعداد: ۱۲۸
دار الصدیق میں دفاتر : ۴
دار الفاروق میں دفاتر: ۴
دار عثمان میں دفاتر : ۴
دار الصدیق میں نگران حضرات اور اساتذہ کے کمرے: ۱۲
دار الفاروق میں نگران حضرات اور اساتذہ کے کمرے: ۱۶
دار عثمان میں نگران حضرات اور اساتذہ کے کمرے: ۱۲
دار الصدیق میں طلبہ کے خصوصی رہائشی کمرے: ۲۸
دار الفاروق میں طلبہ کے خصوصی رہائشی کمرے: ×
دار عثمان میں طلبہ کے خصوصی رہائشی کمرے: ۵۶
دار الصدیق میں بیت الخلاء: ۷۲
دار الفاروق میں بیت الخلاء: ۷۲
دار عثمان میں بیت الخلاء: ۷۲
ہر دار میں غسل خانے: ۶۴
دار الصدیق کے کل کمرے: ۱۶۸
دار الفاروق کے کل کمرے: ۱۴۴
دار عثمان کے کل کمرے: ۲۰۸
کل کمرے: ۵۲۰
ان پانچ عمارتوں پر مصارف کا تخمینہ کروڑوں روپے کا ہے۔ ایک کمرے کی تعمیر کے مصارف کا تخمینہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے ہے۔ اور ہر کمرے میں طلبہ کے فرنیچر اور پنکھے وغیرہ کا تخمینہ /۵۱۴۵۰ روپے ہے۔ اس تعمیر اور فرنیچر پر توکیل(تملیک) کے بعد زکوٰۃ کی رقم لگانے کی شرعاً گنجائش ہے۔
یہ دارالطلبہ تعمیری حسن، فنی خصوصیات، افادیت اور آسائش کے لحاظ سے اپنی نظیر آپ ہے۔
رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنی نفاست طبع اور دقت نظر سے طلبہ کے لئے جن ضروریات اور آسائشوں کا اہتمام کیاہے۔ اس کی مثال طلبہ کی اجتماعی سکونتوں کی دنیا میں کم ملے گی۔ امید ہے کہ یہ معیاری دارالطلبہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے طلبہ کی علمی یکسوئی اور دلجمعی میں بھی معاون ہوگا۔
کالج
یہ منصوبہ بھی مناسب عمارت اور موزوں رجال کار کا منتظر ہے۔
رہائشی مکانات
تربیتی اور تعلیمی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے اساتذہ کی رہائش جامعہ دارالعلوم کراچی کے احاطہ میں ہے۔ بحمداللہ اساتذہ کے لئے باون عمدہ مکانات تیار ہوگئے ہیں لیکن بہت سے اساتذہ کے پاس اب بھی یاتو مکان نہیں ہے یا وہ نیم پختہ مکانات میں رہائش رکھتے ہیں، اس ضرورت کی تکمیل کے لئے آٹھ نئے مکانات کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب ہے، مزید بارہ مکانات تعمیر ابھی باقی ہے۔
کھیل کا میدان
دارالعلوم میں الحمدﷲ طلبہ کی جسمانی ورزش کے لئے کھیل کا ایک بڑا میدان موجود ہے جس میں طلبہ عصر کے بعد جسمانی تفریح کی غرض سے کھیلتے ہیں۔ یہاں بھی طلبہ کی سہولت کے لئے کھیل کے حوالہ سے مختلف تعمیری کاموں کی ضرورت ہے۔
یہ تمام تعمیراتی منصوبے خطیر مالی وسائل چاہتے ہیں اورجامعہ دارالعلوم کراچی کے رواں اخراجات (جو تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہوتے ہیں) اس کے علاوہ ہیں۔ جامعہ دارالعلوم کراچی میں چندے کے لئے کوئی مہم چلانے کا کبھی معمول نہیں رہا۔ حکومت سے کوئی امداد طلب کرنا ادارے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری زکوٰۃ فنڈ سے بھی جامعہ دارالعلوم کراچی کوئی امداد وصول نہیں کرتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ دارالعلوم کے ساتھ ہمیشہ یہ رہاہے کہ جب کوئی اہم ضرورت پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی تکمیل کا انتظام اس طرح فرمادیتے ہیں کہ اللہ کے کچھ نیک بندوں کے دل میں اس ضرورت کا احساس ڈال دیتے ہیں، اور وہ اپنی آخرت کی بہبود کی خاطر از خود جامعہ دارالعلوم کراچی کو اپنی زکوٰۃ صدقات اور عطیات دے دیتے ہیں۔ ہر مد کی رقم کو خاص اُسی کے شرعی مصرف میں خرچ کرنے کا خصوصی اہتمام کیا جاتاہے۔ جامعہ دارالعلوم کراچی اپنے تمام معاونین کے چندوں کی، خواہ وہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو، تہِ دل سے قدر کرتاہے۔ کیونکہ ان کا منشاء نام و نمود کے بجائے خالص رضائے الٰہی کا حصول ہوتاہے اور مخلص مسلمانوں کا تھوڑا تھوڑا چندہ ہی بڑی خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس سنت پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی کی رحمت سے امید ہے کہ انشاء اللہ مستقبل کے یہ منصوبے بھی اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوئے تو اپنے اپنے وقت پر اسی غیبی نصرت کے ذریعے انجام پاجائیں گے۔ اِنّہٗ لَطِیفٌ بِعِبَادِہٖ فِی تَیْسِیْرِ کُلِّ عَسِیْرٍ، ھُوالمُسْتَعَانُ وعَلَیْہِ التُّکْلَانُ۔