جامعہ دارالعلوم کراچی کے زیر انتظام مساجد

جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے احاطے میں واقع جامع مسجد کے علاوہ مزید تین مساجد کا انتظام بھی جامعہ دارالعلوم کراچی کے تحت ہے، ان میں سے ایک ’’محمدی مسجد‘‘ ہے جو دارالعلوم کے قریب ہی صنعتی علاقے میں واقع ہے اس مسجد میں حفظ و ناظرۂ قرآن کا مکتب بھی قائم ہے۔ یہاں دو اساتذہ پڑھا رہے ہیں اورایک سو پچھتر طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
دوسری مسجدجامعہ دارالعلوم کراچی کی محلّہ نانک واڑہ کی اس عمارت میں واقع ہے جس میں بنائے پاکستان کے بعدجون ۱۹۵۱؁ء میںجامعہ دارالعلوم قائم ہواتھا۔ اس عمارت میں شہری امور سے متعلق دفتر اور حفظ و ناظرہ کی متعدد درس گاہیں بھی قائم ہیں۔ یہاں سات اساتذۂ کرام کام کررہے ہیں اور تقریباً دوسوطلبہ پڑھ رہے ہیں۔
گلشن اقبال کراچی کی وسیع و دلکش مسجد ’’جامع مسجدبیت المکرم‘‘ بھی جامعہ دارالعلوم کراچی ہی کے زیر انتظام ہے۔ یہ مسجد اپنی وسعت اور طرز تعمیر کی بناء پر کراچی کی مساجد میں خصوصی حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد اور متعلقات کا رقبہ تقریباً پانچ ایکڑ پر محیط ہے۔ جامع مسجد بیت المکرم کے احاطے میں حفظ و ناظرہ کی متعدد درسگاہیں بھی قائم ہیں۔ یہاں پانچ اساتذہ ہیں اور تقریباً دو سوطلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔علمی مذاکرات کے لئے ایک سیمینارہال بھی ہے، کچھ عرصہ سے یہاں درس نظامی کی کلاسیں بھی (رابعہ تک) شروع کردی گئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دارالافتاء اور مرکز الاقتصاد الاسلامی کے دو شعبے بھی اپنی اپنی مفید خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جدید جامع مسجد

جامعہ دارالعلوم کراچی کی جو مسجد شروع میں تعمیر کی گئی تھی وہ ایک عرصے سے نمازیوں کی تعداد کے اعتبار سے چھوٹی پڑرہی تھی اس لئے رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم اور دیگر احبابِ دارالعلوم کراچی کی یہ تمنا اور کوشش تھی کہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے شایان شان ایک کشادہ ، پروقار اور جاذب نظر مسجد تعمیر کی جائے جو دارالعلوم اور آس پاس سے آنے والے تمام نمازیوں کی ضرورت کو پورا کرسکے اور بڑے بڑے اجتماعات بھی اس میں منعقد کئے جاسکیں ، نیز وقتاً فوقتاً پیش آنے والی دیگر ضروریات کا بھی یہاں انتظام ہوسکے ۔
مسجدکا نقشہ
چنانچہ جدید انجینئرنگ سے خوب استفادہ کرکے ممکنہ تعمیراتی نزاکتوں کا خیال کرتے ہوئے جدید مسجد کا نقشہ تیار کروایا گیا اور یہ بات طے کی گئی کہ جدید مسجد قدیم مسجد سے تقریباً سات گنا بڑی ہوگی ، اس نقشے میں مقدس مقامات کی قدیم عمارتوں کے طرزِ تعمیر کا بطور خاص لحاظ رکھا گیا ۔
نقشہ کس نے تیار کیا ؟
اس مسجد کا نقشہ بنیادی طور پر ملک کے مایہ ناز چارٹرڈ آرکیٹیکٹ جناب ریٹائرڈ کرنل حسین نے نہایت شوق وذوق اور محنت وکاوش سے تیار کیا ہے ، مگر بعد میں ان کی پیرانہ سالی کے باعث دوسری متعدد فرموں اور انجینئر صاحبان نے اس کی تفصیلات کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا ، اس سلسلے میں ایک معروف کمپنی ’’مشتاق اینڈ بلال ‘‘ کے جناب نجم بلال صاحب کی خدمات بطور خاص قابلِ تعریف ہیں۔
تعمیر کا آغاز
تعمیر شروع کرنے کے لئے بنیادیں کھودیں جاچکی تھیں ، ۲۳؍رجب ۱۴۱۷؁ھ، مطابق ۵؍دسمبر ۱۹۹۶؁ء جمعرات کو ختم بخاری شریف کی مبارک تقریب سے فارغ ہو کر علماء ، طلباء اور دیگر صلحاء نے ان بنیادوں میں تیار شدہ مسالہ ڈالا۔
کل رقبہ
مسجد کا اصل زمینی رقبہ ستانوے ہزار سات سو (۹۷۷۰۰)مربع فٹ یعنی دس ہزار آٹھ سو پچپن (۱۰۸۵۵)مربع گز ہے، یوں اصل رقبہ ۱۷ء۹۴۲کنال یعنی تقریباًاٹھارہ کنال ہے جو تقریباً سوا دو ایکڑ بنتا ہے۔ مرکزی ہا ل کی چار طرف گیلریوں ، اسی ہال کی شمالی اور جنوبی راہداریوں کی پہلی منزل ، بڑے برآمدے کی پہلی منزل ، صحن کی شمالی ، جنوبی اور مشرقی راہداریوں کی پہلی منزل اور بیسمنٹ کو ملا کرکل دو لاکھ اکتالیس ہزار دو سو (۲۴۱۲۰۰) مربع فٹ یعنی چھبیس ہزار آٹھ سو (۲۶۸۰۰) مربع گز ہے یہ رقبہ ۴۴ء۲۹۷ کنال یعنی تقریباًساڑھے پانچ ایکڑبنتا ہے ۔مسجد کا مسقف حصہ (کورڈ ایریا ) انسٹھ ہزار نوسو (۵۹۹۰۰) مربع فٹ یعنی چھ ہزار چھ سو پچپن (۶۶۵۵) مربع گز ہے ، یہ رقبہ گیارہ کنال یعنی ایک ایکڑ اور تین کنال ہے۔غیر مسقف حصہ (اَن کورڈ ایریا ) یعنی صحن سینتیس ہزار آٹھ سو (۳۷۸۰۰) مربع فٹ یعنی چار ہزار دو سو (۴۲۰۰) مربع گز ہے ، یہ رقبہ ۶ء۹۴۲ کنال یعنی تقریباً سات کنال ہے۔
ماربل فرش
پوری مسجد کی دیواروں کی سات فٹ بلندی تک ماربل لگایا جارہا ہے ، فرش بھی ماربل کا بچھایا جارہا ہے ، ہرمصلے کا ماربل دو فٹ چوڑا اور پانچ فٹ لمبا ہے تاکہ اس پر ہر شخص کھڑے ہو کر سہولت سے نماز ادا کرسکے ، سجدے سے اٹھتے وقت اگلی صف کے نمازی کے کپڑوں وغیرہ سے الجھنے کا خطرہ یہاں الحمد للہ نہیں ہے، اس مصلے پر نمازی اپنے سامنے حفاظت کی غرض سے اپنا مختصر سامان بھی رکھ سکتا ہے ۔
وضو خانے
جدید مسجد اور اس کے بیسمنٹ میں کل چھ وضو خانے بن چکے ہیں ایک بڑا وضوخانہ باب الشفیع سے داخل ہوتے ہی دائیں طرف ہے ، اس میں کل ایک سو سترہ (۱۱۷) ٹونٹیاں ہیں ، بیک وقت یہاں ایک سو سترہ (۱۱۷) افراد وضو کرسکتے ہیں ، باب فاطمہؓ سے بیسمنٹ میں داخل ہوں تو ایک وضو خانہ یہاں ہے ، اس میں کل سو (۱۰۰) ٹونٹیاں لگی ہیں ، بیک وقت سو آدمی یہاں وضو کرسکتے ہیں ، باب شبیر احمد عثمانی ؒسے بیسمنٹ میں داخل ہوں تو ایک وضو خانہ یہاں ہے ، چھیاسٹھ افراد اس جگہ بیک وقت وضو کرسکتے ہیں ، باب حسین احمد مدنی ؒ سے تہ خانے میں آئیں تو یہاں ایک وضو خانہ ہے جہاں کل پچاس(۵۰) ٹونٹیاں ہیں ، بیک وقت پچاس نمازی یہاں وضوکرسکتے ہیں ، باب شبیر احمد عثمانی ؒ کے اوپر یعنی شمالی کوریڈور کی پہلی منزل کے مغربی کونے میں بھی ایک وضو خانہ ہے ،اٹھارہ آدمی اس وضو خانے میں بیک وقت وضو کرسکتے ہیں،اسی طرح باب حسین احمد مدنی ؒ کے اوپر یعنی جنوبی کوریڈورکی پہلی منزل کے مغربی کونے میںایک وضو خانہ ہے، یہاں بھی اٹھارہ نمازی بیک وقت وضو کرسکتے ہیں، اس طرح ان چھ وضو خانوں میں تین سو انہتر (۳۶۹) نمازی بیک وقت وضو کرسکتے ہیں۔
باب الشفیع کی بائیں جانب ، اسی طرح باب عائشہ ؓکے قریب نیچے بیسمنٹ میںوضوخانے بنیں گے یانہیں ؟ فی الحال یہ بات طے نہیں ، قدیم مسجد جب شہید کرکے صحن میں شامل کی جائے گی تو اس کا فیصلہ اس وقت ہوگا کہ یہاں وضو خانے بن سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کی ضرو رت بھی ہے یا نہیں؟
بیت الخلاء
بیت الخلاء مسجد سے ذرا فاصلے پر بنائے گئے ہیں تاکہ مسجد کی فضا ء بالکل صاف رہے ، بیت الخلاء دو طرفہ ، کشادہ اور ہوا دار ہیں جن کی تعداد پینتیس (۳۵) ہے ، جس جگہ یہ بیت الخلاء تعمیر کئے گئے ہیں وہ جگہ مسجد سے ذرا فاصلے پر تو ہے مگر زیادہ دور بھی نہیں ہے جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ امتحان کے موقع پر طلبہ جب مسجد کے ہال اور برآمدوں میں امتحان دے رہے ہوتے ہیں تو ان کی طبعی ضروریات کے لئے قناتوں کے ذریعہ بیت الخلاء تک جانے والا ایک محفوظ راستہ بنادیا جاتا ہے جس کے ذریعہ طلبہ بسہولت وہاں جاسکتے ہیں ، اس طرح امتحانی نظم میں بھی خاصی سہولت ہوتی ہے ۔
مرکزی ہال
جامع مسجد کا مرکزی ہال انیس ہزار پانچ سو (۱۹۵۰۰) مربع فٹ ، یعنی دوہزار ایک سو چھیاسٹھ (۲۱۶۶) مربع گز یعنی ساڑھے تین کنال رقبے پر قائم ہے ، چوڑائی ایک سو پچاس (۱۵۰) فٹ اور لمبائی ایک سو تیس (۱۳۰) فٹ ہے ، یہ ہال بغیر ستونوں کے بنایا گیا ہے تاکہ امام وخطیب اور نمازیوں اور سامعین کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو اور نماز کے لئے صفیں بہتر انداز میں بن سکیں ، محض اس کی وجہ سے تعمیری لاگت میں بھی کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا ، کیونکہ انجینئر صاحبان نے اس کا خاص خیال رکھا ہے ، ہا ل کے تین اطراف (مشرق ، شمال ، جنوب ) میں کل انتالیس (۳۹) دروازے ہیں ، بارہ ، بارہ دروازے شمال اور جنوب میں جبکہ پندرہ (۱۵) دروازے مشرقی جانب میں ہیں، ’’باب الخطیب ‘‘ کو بھی شامل کر لیا جائے تو کل چالیس (۴۰) دروازے ہوجائیںگے ۔
منبر ومحراب
محراب عام رواج سے ہٹ کر زیب وزینت کے بغیر سادہ بنائی گئی ہے ، اس میں گلیز ٹائل لگائے گئے ہیں ، محراب کی آرچ پر پرینوپنک کا گرے نائٹ ماربل لگا ہے، منبر پر سنگ مرمر کا ماربل اور تینوں طرف سنگ مرمر کی جالیاں ہیں ، محراب کے نیچے خطیب صاحب کے لئے ایک کمرہ بھی بنایا گیا ہے ، محراب سے اس کمرے میں جانے کے لئے سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں ، محراب کی بالکل سیدھ میں مشرقی جانب ہال کے مرکزی دروازے کو متعین کرنے کے لئے پہلی منزل کے برآمدے سے گیلری میں کھلنے والے دروازے کے اوپر ایک آرچ بنائی گئی ہے اور آرچ کے کالموں پر پرینوپنک کا گرے نائٹ ماربل لگایا گیا ہے ۔
مرکزی ہال کی چھت
مرکزی ہال کی چھت میں ٹرس روف سلیب ڈالے گئے ہیں ، اس کے اندر چودہ لوہے کی بڑی بڑی ٹرسیں نصب کی گئی ہیں ایک ٹرس کی اونچائی تقریباً بارہ فٹ ہے ، اس کے اوپر لوہے کے پرلن لگے ہوئے ہیں ، پرلن کے اوپر میٹل ڈکٹ پلیٹ ڈالی گئی ہے اس کے اوپر اسٹیل بچھا کر دو انچ کی آر سی سی کنکریٹ کی گئی ہے، لوہے کی بڑی ٹرسیں نیچے سے فال سیلنگ سے ڈھک دی گئی ہیں جس کی وجہ سے چھت خوبصورت لگ رہی ہے ، گرم ہوا نکالنے کے لئے چھت میں بڑے بڑے ایگزاسٹ فین لگائے گئے ہیں جسے انجینئرنگ کی زبان میں ’’ائیرڈکٹ سسٹم ‘‘ کہتے ہیں، چھت چھبیس(۲۶) فٹ اونچی ہے اس میں اکیس منوّر دائرے الٹے کٹورے کی طرح بنائے گئے ہیں جن سے ہال میں روشنی پھیلتی ہے ، تین تین دائرے چاروں کونوں میں اور نو دائرے درمیان میں ہیں ، چھت میں دو بڑے جھالر نما خوبصورت فانوس بھی لٹکائے گئے ہیں ۔جو خاص مسجد ہی کے لئے عطیے میں بعض اہل خیر نے فراہم کئے ہیں۔
کل نمازیوں کی گنجائش
پوری مسجد میں تین مصلّوں پر چار نمازیوں کے اعتبار سے کل سترہ ہزار دو سوانیس (۱۷۲۱۹) نمازیوں کی گنجائش ہے،اس میں برآمدے اور کوریڈورز کی چھت اور تہ خانے کی گنجائش شامل نہیں ہے۔ اور اگر بڑے بر آمدے کی چھت ، صحن کے شمالی ، جنوبی اور مشرقی کوریڈوروں کی چھت اور تہ خانے کی گنجائش کو بھی شامل کرلیں تو پھر کل تیس ہزار چھ سو ترانوے (۳۰۶۹۳) نمازیوں کی گنجائش ہے ۔
مسجد کے دروازوں کے نام
مسجد کے دس(۱۰) دروازے رکھے گئے ہیں ، جن کے نام یہ ہیں :
صدر درواز ے کا نام ’’باب الشفیع ‘‘ مشرقی جانب شمالی دروازے کا نام ’’باب فاطمہؓ ‘‘جنوبی دروازے کا نام ’’باب عائشہؓ ‘‘ برآمدے کے شمالی دروازے کا نام ’’باب العارفی ؒ‘‘جنوبی دروازے کا نام ’’باب مولانا محمد یاسینؒ ‘‘ ہے ، مسجد کی مغربی جانب شمالی دروازے کا نام’’باب شبیر احمد عثمانی ؒ‘‘ اور جنوبی دروازے کا نام ’’باب حسین احمد مدنی ؒ ‘‘ ہے ،ایک دروازہ محراب میں کھلتا ہے جس کا نام ’’باب الخطیب ‘‘ہے ، ’’باب العارفی ؒ‘‘ اور ’’باب فاطمہ ؓ ‘‘ کے درمیان میں بھی ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’باب نوراحمد ؒ ‘‘ ہے ۔ اسی طرح ’’باب مولانا محمد یاسینؒ ‘‘ اور ’’باب عائشہ ؓ ‘‘ کے درمیان میں بھی ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’باب سحبان ؒ ‘‘ ہے۔
مسجد کے مرکزی دروازے
مسجد میں جو دروازے لگائے جارہے ہیں ، انہیں مسجد نبوی کے دروازوں کی طرح بنانے کی کوشش کی گئی ہے ، نیز کواڑوں میں لکڑی کے ذریعہ کی جانے والی میناکاری بھی مسجد نبوی کے دروازوں کی میناکاری کا عکس ہے جس میں الحمد للہ خاصی حد تک کامیابی ہوئی ہے ۔
بیسمنٹ (تہ خانہ )اور خواتین کے لئے سہولتیں
پوری مسجد کے نیچے تہ خانہ بنایا گیاہے ، یہاں بھی ماربل بچھایا جارہا ہے ، چند بیت الخلاء اور زیادہ وضوخانے تہ خانے کے اطراف میں بنائے گئے ہیںتاکہ نمازیوں کو سہولت رہے ، جامعہ دارالعلوم کراچی میں منعقد ہونے والی ہفتہ واری اصلاحی مجلسوں اور وقتاً فوقتاًمنعقد ہونے والی دیگر تقریبات میں عموماً خواتین کی بھی خاصی تعداد شرکت کرتی ہے ، ایسے موقعوں پر مسجد کے تہ خانے میں ان کے لئے بقدر ضرورت باپردہ جگہ قناتوں کے ذریعہ ان شاء اللہ مخصوص ہوجایا کرے گی جہاں بیٹھ کر خواتین اصلاحی بیانات اطمینان سے سن سکیں گی ، وضو وغیرہ میں بھی یہاں ان کو سہولت رہے گی ، تہ خانہ دارالعلوم کی امتحان گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ، مسجد کی متفرق ضروریات اور اصلاح باطن کے لئے دور دراز سے آنے والے سالکین کے قیام کے لئے متعدد کمرے بھی یہاں بنائے گئے ہیں ۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنے اہل خانہ سمیت گاڑی میں سفر کررہے ہوتے ہیں، راستہ میں نماز کا وقت ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں مرد تو کسی قریبی مسجد میں جاکر بآسانی نماز پڑھ لیتے ہیں، مگر خواتین کو نماز کی ادائیگی میں خاصی دشواری پیش آتی ہے، کیونکہ ان کے لئے وہاں وضوء وغیرہ کرنے کا کوئی مناسب انتظام ہوتا ہے نہ ہی نماز پڑھنے کی کوئی صحیح جگہ دستیاب ہوتی ہے، بعض اوقات تو صرف اسی وجہ سے خواتین کی نماز ہی قضاء ہوجاتی ہے، اس مشکل کو دور کرنے کی خاطر جامع مسجد دارالعلوم کراچی کے بیسمنٹ میں مستورات کے لئے طہارت ، وضو اور نماز کے لئے بھی جگہ رکھی گئی ہے تاکہ اس میں ایسی خواتین اپنی انفرادی نماز ادا کرسکیں۔
مسجد کا مینار
اس مسجد کا ایک بڑا مینار تعمیر کیا جارہا ہے جو انشاء اﷲ مسجد نبوی کے میناروں کے طرز پر ہوگا مگر اونچائی کم ہوگی، مسجد نبوی کے میناروں کی بلندی تقریباً ۳۲۵ فٹ ہے مگر اس مسجد کے مینار کی بلندی ۲۶۰ فٹ ہے، انچائی کم رکھنے کی ایک و جہ تو ادب کا تقاضہ ہے کیونکہ بالکل وہی بلندی رکھنا جو مسجد نبوی کے میناروں کی ہے ادب کے خلاف معلوم ہوتا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں لاگت کم آئے گی مینار کی تعمیر شروع ہوچکی ہے، جو اب تک ۱۲۰ فٹ اسٹریکچر (ڈھانچہ) تک پہنچ چکی ہے۔ مولائے کریم اسے جلد پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین
اس مسجد میں کن مقدس مساجد کی جھلک دکھائی گئی ہے ؟
شروع میں یہ تجویز تھی کہ اس مسجد کے کل چار مینار اور ایک گنبد ہوگا جن میں دو بیرونی مینار مسجد نبوی اور دو اندورونی مینار مسجد حرام کے میناروں کے مشابہ ہوں گے گنبد مسجد اقصیٰ کے گنبد کے مشابہ ہوگا ، کھڑکیاں جامع مسجد قرطبہ کی کھڑکیوں کے مشابہ ہوں گی مگر اب صرف دومینار رکھے گئے ہیں جو ان شاء اللہ مسجد نبوی کے میناروں کے مشابہ ہوں گے ، بعض مصلحتوں اور زر کثیر کے خرچ سے بچنے کی خاطر اندرونی دو مینار اور گنبد تعمیر نہیں کئے جائیں گے ، مسجد کے اندر محرابوں اور بیرونی رنگ ومنظر میں قدیم عبادت گاہوں کی طرز تعمیر کی جھلک نمایاں ہے ، مرکزی دروازوں کی محرابوں میں جو نقش ونگار ہیں وہ مسجد نبوی کے دروازوں کے نقش ونگار سے میل کھاتے ہیں ، مرکزی دروازوں میں لکڑی کے دروازے بھی مسجد نبوی کے دروازوں کی طرح ہیں ۔
اتنی بڑی مسجد کیوں تعمیر کی گئی ؟
عام لوگوں کے ذہنوں میں عموماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مسجد تعمیرکرنے کے بجائے اس سے چھوٹی مسجد تعمیر کرلی جاتی تو کیا وہ دارالعلوم کے نمازیوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں تھی ؟ اس کے جواب میں رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے تحریر فرمایا :
’’اتنی بڑی مسجدبنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دارالعلوم کراچی کے طلبہ اور آس پاس کے نمازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، نیز دارالعلوم کراچی کی موجودہ ضروریات اور آئندہ کی ضروریات جس رفتار سے بڑھ رہی ہیں ، اس لحاظ سے یہ مسجد غیر ضروری طور پر بڑی نہیں ہے پھر اس کو قدیم مسجد کے ساتھ بنانا ضروری تھا جبکہ اس کے ساتھ قبرستان بھی موجود ہے جس سے مسجد کو الگ رکھنا ضروری تھا، اس قسم کی بعض مجبوریاں ایسی پیش آئیں کہ مسجد کے ورانڈے کا سائز لمبائی میں بڑا رکھنا پڑا ، جس کی تفصیل موقع پر دیکھ کر ہی سمجھی جاسکتی ہے ۔‘‘ (البلاغ، ربیع الاول ۱۴۲۸؁ھ)
بڑی مسجد بنانے کے اور بھی فوائد ہیں ،مختلف اہم تقریبات اور ختم بخاری شریف کی عظیم الشان تقریب کے موقع پر باہر سے آنے والے مسلمانوں کی کثیر تعداد یہاں بآسانی سما سکتی ہے ، امتحانات کے مواقع پر بھی مسجد سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، اصلاح باطن کی غرض سے آنے والے حضرات بھی مسجد کے کمروں میں بسہولت قیام کرسکتے ہیں ، رمضان شریف کے آخری عشرے میں معتکفین کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی بآسانی یہاں اعتکاف کرسکتی ہے ۔
نمازیوں کی سہولت کا خیال
جامعہ دارالعلوم کراچی کی مسجد کا مشاہدہ کرنے والا ہر شخص یہ تأثر لئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس میں الحمد للہ نمازیوں کی سہولت کا بہت زیادہ خیال رکھا گیا ہے ، مصلّے کی لمبائی بھی اسی لئے زیادہ رکھی گئی ہے تاکہ نماز پڑھنے والے کو پچھلی صف کے نمازی کی وجہ سے ذرا سی الجھن کا بھی سامنا نہ کرنا پڑے ، نماز کے لئے آنے والے شخص کے پاس اگر تھوڑا بہت سامان ہے تو وہ اُسے بھی اپنے سامنے مصلّے پر رکھ سکتا ہے تاکہ سامان چوری وغیرہ ہونے سے محفوظ رہے اور نماز پڑھنے والا شخص ذہنی اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرسکے ، مرکزی ہال بغیر ستونوں کے اسی لئے بنایاگیا ہے تاکہ نمازیوں کو صف بنانے میں ادنی دشواری بھی پیش نہ آئے اور بیان ہورہا ہوتو سامعین بآسانی خطیب صاحب کو دیکھ سکیں اور دلجمعی کے ساتھ بیان سن سکیں ، بیان کرنے والے حضرات بھی سامعین کو دیکھنے اور ان کو مخاطب بنانے میں دقّت محسوس نہ کریں ، مرکزی ہا ل کے دروازے ، روشندان اور کھڑکیاں بھی زیادہ رکھی گئی ہیں تاکہ ہال میں تازہ ہوا زیادہ سے زیادہ آسکے اور حبس سے بچاؤ ہوسکے اور نمازیوں کو گھٹن کے بجائے فراخی اور کشادگی کا احساس رہے ، مسجد اور تہ خانے کے بیرونی دروازے بھی زیادہ تعداد میں اسی لئے رکھے گئے ہیں تاکہ ہجوم کے موقع پر نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے میں پریشانی نہ ہو ، اسی طرح معذور لوگوں کے لئے الگ راستے(RAMP ) بنائے گئے ہیں تاکہ وہ وہیل چیئر پر بآسانی مسجد میں آسکیں۔
بہت سی مساجد میں یہ دیکھا گیا ہے کہ نمازی جب مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پہلے وہ وضو خانے میں جانے کے لئے اپنے جوتے اتارتا ہے پھر چونکہ وضو خانے او رمسجد کے صحن کے درمیان ایسی جگہ ہوتی ہے جو مسجد سے خارج ہوتی ہے اور ننگے پیر وہاں چلنے سے پیر دوبارہ خراب ہوجاتے ہیں اس لئے وہ شخص دوبارہ اپنے جوتے پہننے اور اتارنے پر مجبور ہوتا ہے، الحمد للہ اس مسجد میں اس کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ مسجد میں داخل ہونے والا شخص وضوخانے میں بھی جانا چاہے تو بھی اسے صرف ایک مرتبہ ہی جوتے اتارنے پڑیں گے کیونکہ یہاں وضو خانے اور مسجد کے صحن کے درمیان کوئی خلا نہیں ہے ۔ مسجد کی طرف آنے والے تمام راستوں کوخوب کشادہ اور پیور بلاکوں سے خوب پختہ بنایا گیا ہے تاکہ بارش وغیرہ کے موقع پر بھی نمازیوں کو آمد ورفت میں سہولت ہو، مسجد کے مشرق، مغرب، ، جنوب ، شمال چاروں طرف سرسبز وشاداب لان بنائے گئے ہیں تاکہ نمازی حضرات فضائی آلودگی کے بجائے صاف شفاف اور صحت افزا ماحول میں فریضۂ نماز ادا کرسکیں۔
مغربی جانب محراب میں ’’باب الخطیب ‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا دروازہ رکھا گیا ہے تاکہ خطیب صاحب اور عوام الناس سے خطاب کرنے والی دیگرشخصیات اس دروازے سے بآسانی مسجد میں تشریف لاسکیں اور پھر وہیں سے واپس جاسکیں ۔
خلاصہ یہ ہے کہ نمازیوں کی جن سہولیات کا خیال رکھنا انسانی طاقت کی حد تک ممکن تھا الحمد للہ ان سب کی رعایت کی گئی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہو کہ مسجد کے حسن وجمال کے مقابلے میں عوام کی سہولیات کا خیال زیادہ رکھا گیاہے ۔
دورانِ تعمیر ، امورِ مسجد کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے رکن جناب محمد کلیم صاحب نے تو یہاں تک فرمایا کہ مسجد کا حسن وجمال سہولیات پر قربان کردیاگیا ہے ۔
حضرت صدرِ جامعہ دامت برکاتہم کی دقّتِ نظر
مسجد کے تعارف کے سلسلے میں جو تفصیلات گذشتہ صفحات میں بیان کی گئی ہیں ا ن سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ مسجد کی تعمیر میں کس قدر باریک بینی اور غوروفکر سے کام لیا گیا ہے ، یہ سب حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی دقتِ نظر اور جہد مسلسل کا ثمرہ ہے ، تعمیری کاموں میں حضرت والا دامت برکاتہم جس لگن ، جانفشانی اور انتھک محنت کا مظاہرہ فرماتے ہیں وہ صرف انہی کا حصہ ہے ، ہر ایک کے بس کی بات نہیں، چنانچہ ہر چھوٹی بڑی بات پر غورکرنا متعلقہ افراد ، مسجد کمیٹی اور ماہرین سے مشورہ کرنا اور اس کا باربار جائزہ لینا ، اس کے متعدد نمونے بنواکر صحیح ، مناسب اور عمدہ پہلو کا انتخاب کرنا آپ کا خاص معمول ہے ،نیز سفر میں بھی اگر کسی اہم اور وقیع مسجد پر نظر پڑجاتی ہے تو آپ اس مسجد کا بھی تفصیل سے جائزہ لے کربلکہ بساو اوقات اس کے فوٹو بنا کر اس کی خاص خاص چیزوں کو دارالعلوم کراچی کی مسجد میںسمونے کی کوشش فرماتے ہیں ، بعض مساجد کو دیکھنے کے لئے حضرت والا دامت برکاتہم نے سفر بھی فرمایا ہے۔
یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ہے کہ جہاں آپ علم وتحقیق ،درس وفتویٰ اور روحانیت میں مرجع ہیں وہیں آپ انتظامی وتعمیری امور میں بھی خاص ذوق اور منفرد رائے رکھتے ہیں ، اس کی تصدیق جامعہ دارالعلوم کراچی کی جدید مسجد کے علاوہ دیگر قدیم وجدید عمارات سے بآسانی ہوجاتی ہے۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ۔
مسجد کمیٹی کے ارکان
تعمیرمسجد کی دیکھ بھال کے لئے صدر جامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے جس کے ارکان حسبِ ذیل ہیں :
(۱) ۔۔۔۔۔حضرت مولانا مفتی عبد الرؤف صاحب سکھروی مدظلہم
(۲) ۔۔۔۔۔حضرت مولانا رشید اشرف صاحب مدظلہم
(۳) ۔۔۔۔۔جناب محمد کلیم صاحب مدظلہم
یہ حضرات ماشاء اللہ بڑی لگن اور تندہی کے ساتھ مسجد کے تعمیراتی کام کی دیکھ بھال فرماتے رہتے ہیں ، حسب ضرورت مفید مشورے نیز قابل اصلاح چیزوں کی نشاندہی بھی فرماتے رہتے ہیں ، مسجد سے متعلق وقتا فوقتاً منعقد ہونے والی مجالسِ مشاورت میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں ۔ اس سے حضرت صدر جامعہ دامت برکاتہم کو متعدد امور میں فیصلے کرنے میں خاصی مدد ملتی ہے ۔
مسجد تعمیر کرنے والی کارپوریشن
مذکورہ مسجد کی تعمیری سرگرمیاں جو کارپوریشن انجام دے رہی ہے اس کے بانی حاجی احمد دین مرحوم تھے جن کا چند ماہ پہلے انتقال ہوگیا ہے ۔حاجی صاحب مرحوم دیانتدار اور نیک سیرت انسان تھے، اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے ۔ آمین ۔ ان کی حیات میں اس کارپوریشن کا نام ’’دین کنٹریکٹر ‘‘تھا حاجی احمد دین مرحوم کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادگان ان کے کاموں کو سنبھالے ہوئے ہیں اور اب انہوں نے اپنی اس کارپوریشن کا نام ’’البرکہ کارپوریشن پرائیوٹ لمیٹڈ ‘‘ رکھا ہے ۔
ماشاء اللہ یہ کار پوریشن مسجد کی تعمیری ذمہ داریاں بڑی محنت اور دیانتداری کے ساتھ سرانجام دے رہی ہے ، حق تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائے اور انہیں اس طرح کی مزید خدمات کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔

معاونین ؟
واضح رہے کہ یہ مسجد ۹۹ فیصد مصارف کی حد تک پاکستان کے مخلص مسلمانوں کے تعاون سے تیارہوئی ہے ، اس کی تعمیر میں کسی ملکی یا غیر ملکی حکومت کی امداد شامل نہیں ہے ، پاکستان کے عوام نے اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے جتنا بھی ہوسکا چندہ دیا ، ان میں زیادہ سے زیادہ رقمیں دینے والے اصحاب خیر بھی ہیں اور کم سے کم رقموں کے ذریعہ حصہ ڈالنے والے اللہ کے نیک بندے بھی ہیں ، اللہ تعالیٰ سب کے عطیات کو قبول فرمائے اور وہ تمام مسلمان جو کسی بھی لحاظ سے مسجد کی تعمیر کے لئے کوشاں رہے ، اللہ تعالیٰ رہتی دنیا تک اس مسجد کو ا ن کے لئے صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے۔آمین ۔